#کتاب_میرا_داغستان
#مصنف_و_ادیب_رسول_حمزہ_توف
#مترجم_اجمل_اجملی
#پبلشرز_فکشن_ہاؤس_لاہور
#قیمت_500_روپے
#تبصرہ_و_تعارف_نعمان_خالد
#تعارف! رسول حمزہ توف سوویت یونین (رُوس) کی جمہوریہ داغستان کے آوار گاؤں سدا میں مشہور شاعر حمزہ سداسا کے گھر 28 ستمبر 1923ء کو پیدا ہوئے۔
رسول حمزہ توف نے زیرِ بحث کتاب میرا داغستان میں کئی بار لکھا ہے کہ میں ادیب ہوں مصنف نہیں اس لیئے کہ ایک عالم میں رسول حمزہ توف کے نظمیں مشہور اور کئی کئی زبانوں میں ترجمعہ ہوئے ہیں۔ عالمی ادب والوں نے بھی رسول حمزہ توف کے بہت سارے نظمیں ترجمہ کئیے ہیں.رسول حمزہ توف کا ایک شاہکار نظم (اے عورت) جو مرشد مستنصر حسین تارڈ صاحب نے بھی ترجمہ کیا ہے۔
بے حد لاجواب اور مایہ ناز ہے۔
مادری زبان رُوسی۔
پیشہ ورانہ زبان (آوری) جو کہ سدا گاؤں میں بولی جاتی ہے۔
رسول حمزہ توف کا انتقال 3 نومبر 2003ء کو ماسکو (رُوس) میں ہوا۔
#تبصرہ! ایک دن رسول حمزہ توف کو مدیر اعلیٰ کی طرف سے خط ملا جو کچھ یو تھا"رسول! تم نے داغستان کے حُسن پر چھوٹے چھوٹے کالم لکھنے ہیں جو ہم اخبار میں شائع کریں گے۔بھئی انکار مت کرنا کیونکہ سدا میں کوئی اور بندا ایسا نہیں کہ ہم اس کو اس کام کے لیئے راضی کریں۔ وسلام۔"
چونکہ رسول حمزہ توف تو صرف ادیب تھے مصنف نہیں اس لیے مدیر کو جوابی خط لکھا جو کچھ یوں ہے "میں مصنف نہیں ادیب ہوں کیونکہ میرا کام ہے شاعری کرنا ہے۔آپ نے جس کام کے لیے کہا ہے یہ نثری کام تو مصنف کا ہوتا ہے لیکن اگر میں داغستان پر لکھنا شروع بھی کیا تو میں ایک کالم نہیں لکھوں گا۔"
ایک طرف تو رسول حمزہ توف نے انکار کردیا تو دوسری طرف اقرار بھی اور یہ بات کئی بار کتاب میں منشن کی ہوئی ہے کہ میں داغستان پر ایک لفظ بھی نہیں لکھ سکتا اور اسی طرح یہ کتاب مکمل ہوا ہے.
ایک طرف تو کتاب کا موضوع داغستان کا حسن ہے لیکن یہ کتاب بہت انوکھے تیکنیک پر لکھی گئی ہے. جو نئے ادیبوں کے لیے نہایت مفید ہے۔
داغستان کے حسن بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اس میں قاری اور خاص کر اس قاری کے لیے بہت فائدہ مند باتیں ہیں جس میں کچھ لکھنے کی مادہ ہو.
یہ کتاب تیراہ موضوعات پر مشتمل ہے جو مندرجہ زیل ہے۔
1:دیباچے کی جگہ دیباچوں کے بارے میں کچھ عام باتیں۔
2:یہ کتاب کیسے وجود میں آئی اور کہاں لکھی گئ؟
3:کچھ اس کتاب کے مقصد اور اس کے نام کے بارے میں۔
4:کتاب کی ہیئت اور اندازِ تحریر۔
5:زبان۔
6:موضوع۔
7:صنف۔
8:اسلوب اور طرزِ ادا۔
9:کتاب کا ڈھانچہ اور نفس مضمون۔
10:صلاحیت۔
11:کام اور کاوش۔
12:صداقت اور جراءت۔
13:اندیشے۔
ہر ملک کے ہر باشندے کے دل میں اپنے ملک زبان و ریت و رواج سے محبت ہوتی ہے اگر آپ کے دل میں اپنے ملت زبان و ریت و رواج اور خاص کر آپ کے دل میں کچھ لکھنے کی خواہش ہے کہ میں کیسے لکھوں کس موضوع پر لکھوں انداز کیسے اپناؤں تو ان کے لیے لازمی ہے کہ رسول حمزہ توف کے اس شاہکار کتاب میرا داغستان کا مطالعہ ضرور کرے۔کیونکہ میرا داغستان کتاب رموز و کنایوں سے کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی کتاب ہے۔
کتاب سے انتخابی اقتباسات۔
1:کسی کتاب کا دیباچہ اُس تنکے کی طرح ہے جسے کوئی تو ہم پرست بیوی اُس وقت اپنے دانتوں کے بیچ دبالیتی ہے جب وہ اپنے شوہر کا بھیڑ کی کھال والا کوٹ رفو کرہی ہو۔
2:ادب ایک ساز ہے اور ادیب وہ تار جو اس سے منسلک ہوتے ہیں۔ہر تار اپنی ایک الگ آواز رکھتا ہے لیکن جب سب تار اکھٹے چھیڑ دیئے جائیں تو اُن سے موسیقی جنم لیتی ہے.
3:ادیب موضوع کو جنم دیتا ہے یا موضوع ادیب کو؟
#نوٹ
یہ مت کہو کہ "مجھے موضوع بتائیے۔" یہ کہنا بہتر ہے کہ "مجھے آنکھیں عطا کیجیے۔"
(موسیؤ رسول حمزہ توف کی نوجوان ادیبوں کو نصیحت)
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2822640141299834

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔