ڈاکٹر تصدق حسین خالد کی پیدائش January 12, 1901 ار…


ڈاکٹر تصدق حسین خالد کی پیدائش
January 12, 1901
اردو آزاد نظم کے بانیوں میں شامل ممتاز شاعر اور نامور قانون دان تصدق حسین خالد 12 جنوری 1901ء کو پشاور میں پیدا ہوئے۔ انہیں قانون کی پریکٹس کے ساتھ ساتھ سیاست سے بھی دلچسپی تھی اور وہ 1935ء سے 1937ء تک پنجاب مسلم لیگ کے پبلسٹی سیکریٹری بھی رہے تھے۔ ڈاکٹر تصدق حسین خالد کے شعری مجموعے سروونو اور لامکاں نا لامکاں کے نام سے شائع ہوئے۔ 13 مارچ 1971ء کو تصدق حسین خالد لاہور میں وفات پاگئے۔ وہ لاہور میں دارالعلوم اسلامیہ، شادمان لنک روڈ میں آسودۂ خاک ہیں۔
….
قرباں گاہ امن
کھیت سوتے ہیں
فضا میں کرگسوں کا ایک جھنڈ
تیرتا آتا ہے منڈلاتا ہوا
سوئی زمیں
آنکھ میں تنہائیوں کی وسعتیں
جھونپڑی میں ایک ماں
اک جواں افسردگی
سینۂ عریاں سے لپٹائے ہوئے
ایک جان ناتواں
آنکھ پر نم ہونٹ لرزاں
پی مری جاں پی
جواں ہو
منتظر ہے تیری قرباں گاہ امن
….
شیر دل خاں
میں نے دیکھے تیس سال
پے بہ پے فاقے مسلسل ذلتیں
جنگ
روٹی
سامراجی بیڑیوں کو وسعتیں دینے کا فرض
سو رہا ہوں اس گڑھے کی گود میں
آفتاب مصر کے سائے تلے
میں کنوارا ہی رہا
کاش میرا باپ بھی
اف کنوارا
کیا کہوں
..
روندتے جاؤ گزر گاہوں کو
سر اٹھائے ہوئے
سینہ تانے
کانپ جائیں در و دیوار
قدم یوں اٹھیں
دھڑکنیں دل کی بنیں بانگ رحیل
یہ بغاوت ہے
بغاوت ہی سہی
ہم نے انجام وفا دیکھ لیا
خس و خاشاک بہاتا ہوا اپنا سیلاب
اب جو اٹھا ہے تو بڑھتا ہی چلا جائے گا
یہ زر و سیم کے تودوں سے نہیں رک سکتا
گولیاں
کس کو ڈراتے ہو
یہ ڈس سکتی ہیں
ڈس جانے دو
بے نوا سست قدم واماندہ
سال آتے تھے چلے جاتے تھے
وقت کے دامن خوش رنگ پہ کالے دھبے
خشک لب ہانپتے بے بس ایام
راہ کے بیچ میں الجھے ہوئے رہ جاتے تھے سستانے کو
گھبرائے ہوئے
اب تو ہر سانس دہکتا ہوا انگارہ ہے
دل کہ برفاب تھے اب آتش سیال کا فوارہ ہیں
برق رفتار ہے وقت
اور ہم وقف سے دو چار قدم آگے ہیں
چیخ اٹھیں قرنائیں
جھانجھ بجیں
دھوم ہو نقاروں کی
مسکراتے ہوئے گاتے ہوئے بڑھتے جاؤ
پھینکتے ہیں ہمیں تاروں پہ کمند
خیمہ زن ہونا ہے مریخ کے میدانوں میں
….
چاند آج کی رات نہیں نکلا
وہ اپنے لحافوں کے اندر چہرے کو چھپائے بیٹھا ہے
وہ آج کی رات نہ نکلے گا
یہ رات بلا کی کالی رات
تارے اسے جا کے بلائیں گے
صحرا اسے آوازیں دے گا
بحر اور پہاڑ پکاریں گے
لیکن اس نیند کے ماتے پر کچھ ایسا نیند کا جادو ہے
وہ آج کی رات نہ نکلے گا
یہ رات بلا کی کالی رات
مغرب کی ہوائیں چیخیں گی بحر اپنا راگ الاپے گا
سائیں سائیں
تاریکی میں چپکے چپکے سنسان بھیانک ریتے پر
بڑھتا بڑھتا ہی جائے گا
موجوں کی مسلسل یورش میں
وہ گیت برابر گاتے ہوئے
جو کوئی نہیں اب تک سمجھا
سبزے میں ہوئی کچھ جنبش سی
وہ کانپا
آہیں بھرنے لگا
چاند آج کی رات نہیں نکلا
بھیڑیں سر نیچے ڈالے ہوئے
چپ چاپ آنکھوں کو بند کئے
میداں کی اداس خموشی میں فطرت کی کھلی چھت کے نیچے
کیوں سہمی سہمی پھرتی ہیں
اور باہم سمٹی جاتی ہیں
چاند آج کی رات نہیں نکلا
چاند آج کی رات نہ نکلے گا
……………………………