ڈاکٹر تصدق حسین خالد کی وفات
Mar 13, 1971
اردو آزاد نظم کے بانیوں میں شامل ممتاز شاعر اور نامور قانون دان تصدق حسین خالد 12 جنوری 1901ء کو پشاور میں پیدا ہوئے۔
انہیں قانون کی پریکٹس کے ساتھ ساتھ سیاست سے بھی دلچسپی تھی اور وہ 1935ء سے 1937ء تک پنجاب مسلم لیگ کے پبلسٹی سیکریٹری بھی رہے تھے۔ ڈاکٹر تصدق حسین خالد کے شعری مجموعے سروونو اور لامکاں نا لامکاں کے نام سے شائع ہوئے۔
13 مارچ 1971ء کو تصدق حسین خالد لاہور میں وفات پاگئے۔ وہ لاہور میں دارالعلوم اسلامیہ، شادمان لنک روڈ میں آسودۂ خاک ہیں۔
…………..
نظم "موجِ دریا”
ڈاکٹر تصدق حسین خالد
مجموعہ کلام "سروُدِ نو”
اے حسیں ساحل مگر سوتا ھے توُ؟
تیرے حُسنِ بے خبر پر میری بیداری نثار!
میرے قطروں کی جبیں،
مُضطرب سجدوں کی دُنیائے ناز،
آستانِ ناز پر زوقِ عبادت کا ھجوُم
دیکھ، لرزاں سانس
تیری دِید کو آتی ھوُں میں
گاتی ھوُئی، روتی ھوُئی
اور توُ؟
اضطرارِ فطرتِ سیماب کا رنگِ ادا
تیری اِس شانِ تغافل پر فدا،
سوتا ھے توُ
دردِ اُلفت کی اَسیر
تیری ریتوں کو اگر میں بوسہ دُوں
ھے یہی اِک آرزوُ،
ایک جُنبش، اِک نگاہ
اِک سرسراہٹ، ایک آہ
اے میرے دِل کے دیوتا!
میرے آئینے سے مسحوُرِ جمال،
تمتما اُٹھتے ھیں تارے،
گم سے ھو جاتے ھیں دَم بھر کے لیے
منعکس ھے میرے دامن میں فروغِ ماہتاب
خوشہء پرویں کہ ھے شادابِ خوُن آفتاب
پانیوں میں لہلہاتا ھے عجب انداز سے،
حُسنِ ایمن کی بہار
یاد ھے چشمِ کلیم؟
میرے دِل کے دیوتا!
سونے کو ھوُں،
ایک جُنبش، اِک نگاہ
اِک سرسراہٹ، ایک آہ
اے میرے دِل کے دیوتا!

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔