پھر اِن گردُوں نشینوں کو زمیں کی بات کہنے دے اِنہی…


پھر اِن گردُوں نشینوں کو زمیں کی بات کہنے دے
اِنہیں پہلے ذرا زیرِ فلک کچھ روز رہنے دے

مرا قصّہ ہی سننا ہے تو کیوں سُن غیر کے لب سے؟
مجھے اپنی طرح میں کہہ سکوں جیسے بھی، کہنے دے

جہاں کے غُل میں دبنے دے نہ آوازِ ضمیر اپنی
جہاں تک ہو سکے، کانوں میں یہ آواز رہنے دے

تجھے مردِ یقیں، یہ ساحل آسائی مبارک ہو
مجھے شک ہی کی ہمّت آزما موجوں میں بہنے دے

لگا کر لب سے رکھ لوں گا بھرم تیرا میں اے ساقی
مرے آگے بھی، خالی ہی سہی اک جام رہنے دے

بہت دلچسپ تقریرِ مسلسل ہے تری ناصح
مگر کب تک سنے جاؤں؟ مجھے بھی کچھ تو کہنے دے

غمِ جاناں اجازت دے، بدل لوں ذائقہ منہ کا
ترا کیا حرج ہے اِس میں؟ غمِ دوراں بھی سہنے دے

قدم رکھ شوق سے تپتی ہوئی راہِ حقیقت پر
مگر اک کہکشاں بھی سامنے نظروں کے رہنے دے

یہ شب باشوں کی بزمِ نغمہ و مے ہے، یہاں ساقی
حقیقت کون سنتا ہے؟ کوئی افسانہ کہنے دے

ہوائے تازہ سے زنداں نشیں اِتنا ہراساں کیوں؟
کوئی دیوارِ بوسیدہ اگر ڈہتی ہے، ڈہنے دے

محبّت مرہمِ دردِ دلِ انساں تو بن جائے
مگر ذھنِ بشر انساں کو جب انسان رہنے دے

سمجھ میں کچھ نہیں آتا، بھلا کیا کے؟ بُرا کیا ہے؟
بدل اے دورِ نو قدریں، مگر پہچان رہنے دے

دیئے جا خاص اپنا رنگ ہر تخلیق کو مُلّاؔ
نہ اِس کی فکر کر، دنیا کو جو چاہے وہ کہنے دے

(آنند نرائن مُلّاؔ)

انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی