پچھلی بیاض طاق پہ رکھ کر فراغؔ بھی اکیسویں صدی میں…


پچھلی بیاض طاق پہ رکھ کر فراغؔ بھی
اکیسویں صدی میں نئی شاعری کرے
——
فراغ روہوی کا یومِ پیدائش
(پیدائش: 16 اکتوبر 1956ء – وفات: 13 جولائی 2020ء)
——
منتخب کلام
——
اک دن وہ میرے عیب گنانے لگا فراغؔ
جب خود ہی تھک گیا تو مجھے سوچنا پڑا
——
خوب نبھے گی ہم دونوں میں میرے جیسا تو بھی ہے
تھوڑا جھوٹا میں بھی ٹھہرا تھوڑا جھوٹا تو بھی ہے
——
دماغ اہل محبت کا ساتھ دیتا نہیں
اسے کہو کہ وہ دل کے کہے میں آ جائے
——
کھلی نہ مجھ پہ بھی دیوانگی مری برسوں
مرے جنون کی شہرت ترے بیاں سے ہوئی
——
نہ جانے کیسا سمندر ہے عشق کا جس میں
کسی کو دیکھا نہیں ڈوب کے ابھرتے ہوئے
——
مرے اندر سمندر موجزن ہے
میں ساحل سے اُبلنا چاہتا ہوں
——
کہرے کے سوا کچھ نہ دکھائی تجھے دے گا
مت دیکھنا اُس پار خبردار! خبردار!
——
کس زمیں کے گوشے پر آپ حق جماتے ہیں
ہر جگہ ہمارا ہی مقبرہ نکلتا ہے
——
وہ بے خبر ہی رہے اور باخبر سا لگے
تو اُس کے جسم کو چھوتے ہوئے بھی ڈر سالگے
——
سلگ رہا ہے مرا جسم دھیان کب دوگے
بدن کا اپنے مجھے سائبان کب دوگے
——
کسی کے گرم ہونٹوں کی حرارت
رگ و پے میں اُترنا چاہتی ہے
——
تجھے تو دیکھتے ہیں سب ، مری یہ خواہش ہے
مطالعہ میں ترے جسم کی کتاب آئے
——
تمام رات میں اپنے محاصرے میں رہا
اک انتشار سا سانسوں کے قافلے میں رہا
——
فضا پہ رات چھاگئی‘ جہاں کو نیند آگئی
مگر میں جاگتا رہا کہ کوئی جاگتا رہے
——
سنا ہے امن پرستوں کا وہ علاقہ ہے
وہیں شکار کبوتر ہوا تو کیسے ہوا
——
کون آتا ہے عیادت کے لیے دیکھیں فراغؔ
اپنے جی کو ذرا ناساز کیے دیتے ہیں
——
مجھ میں ہے یہی عیب کہ اوروں کی طرح میں
چہرے پہ کبھی دوسرا چہرا نہیں رکھتا
——
یارو حدود غم سے گزرنے لگا ہوں میں
مجھ کو سمیٹ لو کہ بکھرنے لگا ہوں میں
——
ہم سے تہذیب کا دامن نہیں چھوڑا جاتا
دشت وحشت میں بھی آداب لیے پھرتے ہیں
——
خوب نبھے گی ہم دونوں میں میرے جیسا تو بھی ہے
تھوڑا جھوٹا میں بھی ٹھہرا تھوڑا جھوٹا تو بھی ہے
جنگ انا کی ہار ہی جانا بہتر ہے اب لڑنے سے
میں بھی ہوں ٹوٹا ٹوٹا سا بکھرا بکھرا تو بھی ہے
جانے کس نے ڈر بویا ہے ہم دونوں کی راہوں میں
میں بھی ہوں کچھ خوف زدہ سا سہما سہما تو بھی ہے
اک مدت سے فاصلہ قائم صرف ہمارے بیچ ہی کیوں
سب سے ملتا رہتا ہوں میں سب سے ملتا تو بھی ہے
اپنے اپنے دل کے اندر سمٹے ہوئے ہیں ہم دونوں
گم صم گم صم میں بھی بہت ہوں کھویا کھویا تو بھی ہے
ہم دونوں تجدید رفاقت کر لیتے تو اچھا تھا
دیکھ اکیلا میں ہی نہیں ہوں تنہا تنہا تو بھی ہے
حد سے فراغؔ آگے جا نکلے دونوں انا کی راہوں پر
صرف پشیماں میں ہی نہیں ہوں کچھ شرمندہ تو بھی ہے
——
دن میں بھی حسرت مہتاب لیے پھرتے ہیں
ہائے کیا لوگ ہیں کیا خواب لیے پھرتے ہیں
ہم کہاں منظر شاداب لیے پھرتے ہیں
در بہ در دیدۂ خوں ناب لیے پھرتے ہیں
وہ قیامت سے تو پہلے نہیں ملنے والا
کس لیے پھر دل بے تاب لیے پھرتے ہیں
ہم سے تہذیب کا دامن نہیں چھوڑا جاتا
دشت وحشت میں بھی آداب لیے پھرتے ہیں
سلطنت ہاتھ سے جاتی رہی لیکن ہم لوگ
چند بخشے ہوئے القاب لیے پھرتے ہیں
ایک دن ہونا ہے مٹی کا نوالہ پھر بھی
جسم پر اطلس و کمخواب لیے پھرتے ہیں
ہم نوائی کہاں حاصل ہے کسی کی مجھ کو
ہم نواؤں کو تو احباب لیے پھرتے ہیں
کس لیے لوگ ہمیں سر پہ بٹھائیں گے فراغ
ہم کہاں کے پر سرخاب لیے پھرتے ہیں
——
لبوں کے سامنے خالی گلاس رکھتے ہیں
سمندروں سے کہو ہم بھی پیاس رکھتے ہیں
ہر ایک گام پہ روشن ہوا خدا کا گماں
اسی گماں پہ یقیں کی اساس رکھتے ہیں
ہم اپنے آپ سے پاتے ہیں کوسوں دور اسے
وہی خدا کہ جسے آس پاس رکھتے ہیں
چڑھا کے دار قناعت پہ ہر تمنا کو
جو ایک دل ہے اسے بھی اداس رکھتے ہیں
زیاں پسند ہمارا مزاج ہے ورنہ
نگاہ ہم بھی زمانہ شناس رکھتے ہیں
ہمارے تن پہ کوئی قیمتی قبا نہ سہی
غزل کو اپنی مگر خوش لباس رکھتے ہیں
چلو کہ راہ تمنا میں چل کے ہم بھی فراغؔ
زمین دل پہ غموں کی اساس رکھتے ہیں
………………………………………….