ویران دلوں کو ذرا سا بہلانے کے لیے آ پھر بزمِ محبت…


ویران دلوں کو ذرا سا بہلانے کے لیے آ
پھر بزمِ محبت کو سجانے کے لیے آ

مدّت سے مری آنکھ میں ٹھہرا ہے اندھیرا
اک شمعِ تمنا ہی جلانے کے لیے آ

ہم ترکِ تعلق پہ بھی آمادہ نہیں تھے
تو رسمِ وفا پھر سے نبھانے کے لیے آ

اس شہرِ ستم خیز میں بدنام ہیں ہم بھی
اک بار مرا نام بچانے کے لیے آ

ٹوٹے ہوئے دل کو نہ سہی وصل کی تسکیں
اک زخمِ جدائی ہی لگانے کے لیے آ

مانا کہ ترے بعد بہت خاک ہوئے ہم
اک بار مری خاک اڑانے کے لیے آ

اب ضبط کے بندھن بھی کہاں ساتھ نبھائیں
اک آنسو مری آنکھ سے لانے کے لیے آ

پھر چھوڑ کے جانا ہے تو جانا بھی سہی تُو
پہلے میرا دل اور جلانے کے لیے آ

سید اسماعیل شاہ

#urdupoetry