وقت خوش خوش کاٹنے کا مشورہ دیتے ہوئے
رو پڑا وہ آپ مجھ کو حوصلہ دیتے ہوئے
…..
ڈاکٹر ریاض مجید کا یومِ ولادت
13 October 1942
نام ڈاکٹر ریاض الحق، اور تخلص ریاضؔ ہے۔ 13؍اکتوبر 1942ء کو جالندھر میں پیدا ہوئے۔ پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی۔ پروفیسر گورنمنٹ کالج، فیصل آباد کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔ ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں:’پس منظر‘، ’گزرتے وقتوں کی عبادت‘، ’نئی آوازیں‘(مرتب، جدید شاعری) ’رفحان میں ایک شام‘(مرتب)، ’انتخاب روشنی‘(مرتب) ، ’خاک‘۔ ریاض مجید اردو کے علاوہ پنجابی میں بھی شاعری کرتے ہیں۔
منتخب کلام
معصوم خواہشوں کی پشیمانیوں میں تھا
جینے کا لطف تو انہیں نادانیوں میں تھا
آنکھیں بچھاتے ہر کس و ناکس کی راہ میں
یوں جذبۂ خلوص فراوانیوں میں تھا
ندی میں پہروں جھانکتے رہتے تھے پل سے ہم
کیا بھید تھا جو بہتے ہوئے پانیوں میں تھا
پتھر بنے کھڑے تھے تجسس کے دشت میں
دل گم طلسم شوق کی حیرانیوں میں تھا
یوں رینگ رینگ کر نہ گزرتے تھے روز و شب
دریائے زیست بھی کبھی جولانیوں میں تھا
سنجیدگی کی گہری لکیروں میں ڈھل گیا
معصومیت کا نور جو پیشانیوں میں تھا
اک گھر بنا کے کتنے جھمیلوں میں پھنس گئے
کتنا سکون بے سر و سامانیوں میں تھا
دن آرزو کے یوں ہی اداسی میں کٹ گئے
وہ اپنے دکھ میں اپنی پریشانیوں میں تھا
اس کے لیے بھی زندگی پل پل عذاب تھی
وہ بھی سلگتے وقت کے زندانیوں میں تھا
وہ ضبط و اعتدال و توازن کہاں ریاضؔ
معیار فن کہ جو کبھی یونانیوں میں تھا
……………
سطح بیں تھے، سب رہے باہر کی کائی دیکھتے
لوگ کیسے میرے اندر کی صفائی دیکھتے
اس سے ملنے کا نشاں تک بھی نظر آتا نہیں
ایک مدت ہو گئی راہ جدائی دیکھتے
ہم تو اپنی وسعت دل سے بھی کوسوں دور تھے
تیرے دل تک کس طرح اپنی رسائی دیکھتے
آپ ہی تھک ہار کر اپنے کو بے حس کر لیا
زندگی کب تک تری بے اعتنائی دیکھتے
یوں نہ کھو جاتے فضائے یاس میں دنیا کے ساتھ
کاش اپنا ہی لب و لہجہ رجائی دیکھتے
دل کی مجبوری سے بڑھ کر کوئی مجبوری نہ تھی
ہم بھی کچھ کرتے اگر خود سے رہائی دیکھتے
کاش دھرتی پر گرا خوں رنگ لے آتا ریاضؔ
جیتے جی ہم اپنی فصلوں کی کٹائی دیکھتے
………….
آنچ آئے گی نہ اندر کی زباں تک اے دل
کتنی دیر اور مری جان کہاں تک اے دل
حد زیادہ سے زیادہ کی کوئی تو ہوگی
اور اس حرص کا پھیلاؤ کہاں تک اے دل
تجربہ تجربہ آزاد رگ و پے میں رہا
کتنی افسردگی ہے دہر سے جاں تک اے دل
مہک اڑ جائے گی تفہیم کے لب کھلنے سے
سحر ابلاغ کا ہے ضبط بیاں تک اے دل
عکس و آئینہ کی صورت ہے ہمارا رشتہ
ہوں ترے ساتھ تو میرا ہے جہاں تک اے دل
حیرت آثار عجب خواب لیے بیٹھا ہوں
شاید آ جائے کوئی میری دکاں تک اے دل
شور سے اہل خبر کے ہے ریاضؔ آزردہ
کوئی لے جائے اسے بے خبراں تک اے دل
…………
وقت خوش خوش کاٹنے کا مشورہ دیتے ہوئے
رو پڑا وہ آپ مجھ کو حوصلہ دیتے ہوئے
……
اک گھر بنا کے کتنے جھمیلوں میں پھنس گئے
کتنا سکون بے سر و سامانیوں میں تھا
…….
سمٹتی پھیلتی تنہائی سوتے جاگتے درد
وہ اپنے اور مرے درمیان چھوڑ گیا
……
اسی ہجوم میں لڑ بھڑ کے زندگی کر لو
رہا نہ جائے گا دنیا سے دور جا کر بھی
……………………
