نیہا بورا کے والد، کے۔ شرد ہکسر کی جانب سے اپنی بیٹی کے نام لکھا گیا یہ دل گداز …


نیہا بورا کے والد، کے۔ شرد ہکسر کی جانب سے اپنی بیٹی کے نام لکھا گیا یہ دل گداز پیغام ہر شخص کو پڑھنا چاہیے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

جب میری شادی ہوئی تو مجھے معلوم تھا کہ میں صرف ایک بچہ چاہتا ہوں۔ لیکن دل ہی دل میں میری خواہش تھی کہ وہ ایک بیٹی ہو۔

خدا نے مجھے ایک بیٹی کی نعمت سے نوازا۔

جب پہلی مرتبہ میں نے اسے اپنی بانہوں میں اٹھایا تو خاموشی سے خود سے ایک عہد کیا۔ میں نے سوچا کہ میری بیٹی کو کبھی میری توجہ کسی دوسرے کے ساتھ بانٹنی نہیں پڑے گی۔ اسے کبھی میری توجہ کے لیے انتظار نہیں کرنا ہوگا۔ میرے پاس جو کچھ بھی ہے، وہ سب اسی کا ہوگا۔

میں نے چار پانچ بچوں والے خاندان دیکھے تھے۔ والدین صبح سے رات تک بھاگ دوڑ کرتے رہتے تھے، اس کے باوجود کوئی نہ کوئی بچہ ایسا رہ جاتا تھا جسے ان کی توجہ اور محبت کا انتظار کرنا پڑتا تھا۔ مجھے یہ بھی محسوس ہوتا تھا کہ ہمارے ملک کی آبادی بہت زیادہ ہو چکی ہے اور قدرت کو اس کی بھاری قیمت چکانی پڑ رہی ہے۔ میرے نزدیک ایک بچہ کافی تھا۔ یہ ایک ذمہ دارانہ فیصلہ معلوم ہوتا تھا۔

برسوں تک میں نے اپنے اس فیصلے پر کبھی نظرِ ثانی نہیں کی۔

پھر اسی سال میری نظر نیہا بورا پر پڑی۔

نیہا کی عمر انتیس برس ہے۔ وہ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی میں پی ایچ ڈی کر رہی ہیں۔ ان کا تعلق اتراکھنڈ کے پہاڑی علاقے میں واقع قصبے کھٹیما سے ہے اور وہ ایک تھیٹر فنکارہ بھی ہیں۔

جب نیٹ امتحان کے پرچے افشا ہونے کا معاملہ سامنے آیا تو وہ ان طلبہ کے لیے جنتر منتر پر دھرنے میں بیٹھ گئیں جنہیں وہ ذاتی طور پر جانتی تک نہیں تھیں۔

وہ ان بچوں کے لیے کھڑی ہوئیں جنہوں نے برسوں محنت کرکے پڑھائی کی تھی۔ ان والدین کے لیے کھڑی ہوئیں جنہوں نے کوچنگ پر اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی خرچ کردی تھی، لیکن آخرکار ان کے ہاتھ مایوسی اور محرومی کے سوا کچھ نہ آیا۔

نیہا نے مسلسل تئیس دن تک کچھ نہیں کھایا۔

جب انہوں نے بھوک ہڑتال شروع کی تھی تو ان کا وزن چھیاسٹھ کلوگرام تھا۔ اس دوران ان کا وزن سات کلوگرام سے بھی زیادہ کم ہوگیا۔ آخری دنوں میں ڈاکٹروں کو دن میں تین سے چار مرتبہ ان کے خون کے نمونے لینے پڑ رہے تھے۔

جس رات میں نے یہ سب پڑھا، میں سو نہیں سکا۔

بار بار میری آنکھوں کے سامنے اپنی بیٹی کا چہرہ آتا رہا۔ میں تصور کرتا رہا کہ وہ دہلی کی جھلسا دینے والی گرمی میں سڑک پر بیٹھی ہے۔ کمزور ہوچکی ہے، تھک کر نڈھال ہے اور ڈاکٹر بار بار اس کی نبض دیکھ رہے ہیں۔

میں جانتا تھا کہ اگر میری بیٹی اس حالت میں ہوتی تو میں وہاں کھڑے ہوکر یہ سب برداشت نہیں کر پاتا۔ میں اس سے التجا کرتا کہ اب بس کردے، اپنی صحت کا خیال کرے اور یہ سب چھوڑ دے۔

لیکن نیہا اس وقت تک نہیں رکیں، جب تک انہوں نے اپنا مقصد حاصل نہیں کرلیا۔

اور جب یہ سب ختم ہوا تو انہوں نے بتایا کہ ان کا جسم جیسے کھانا کھانا ہی بھول گیا ہے۔ اسے دوبارہ کھانا سیکھنے کی ضرورت ہے، بالکل اسی طرح جیسے کوئی بچہ پہلی مرتبہ کھانا سیکھتا ہے۔

اس کے باوجود، اپنی کمزوری کے عالم میں بھی وہ بہار پہنچیں اور ان چھ سو سے زیادہ طلبہ سے ملاقات کی جنہیں گرفتار کیا گیا تھا۔

وہ آرام کرنے کے لیے گھر نہیں لوٹیں۔ وہ ان لوگوں کے پاس گئیں جو اس جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑے رہے تھے۔

میں ایک ڈاؤزر ہوں۔ روزانہ توانائی کے ساتھ کام کرتا ہوں۔ میں نے یہ سیکھا ہے کہ غصہ ایک بوجھ ہے۔ وہ جلد بھڑک اٹھتا ہے اور پھر بجھ جاتا ہے۔

کوئی انسان محض غصے کے سہارے تئیس دن تک بھوکا نہیں رہ سکتا۔ انسان کو اتنی دور تک لے جانے والی قوت صرف محبت ہوسکتی ہے۔

پھر میں نے پڑھا کہ نیہا کے والد فوج میں تھے اور ان کا خاندان ایک تعیناتی سے دوسری تعیناتی تک سفر کرتا رہتا تھا۔

میری اہلیہ کے والد بھی فوج میں تھے۔ میں انہیں کبھی اپنا سسر نہیں کہتا۔ میرے لیے وہ ہمیشہ صرف پاپا ہیں۔

میری اہلیہ نے تیرہ مختلف اسکولوں میں تعلیم حاصل کی۔

تیرہ مرتبہ کسی نئے اسکول میں پہلا دن۔

تیرہ مرتبہ ایسی جماعت میں داخل ہونا جہاں کوئی ان کا نام تک نہیں جانتا تھا۔

تیرہ مرتبہ ان دوستوں کو الوداع کہنا جن سے دوبارہ ملاقات ہونے کی کوئی ضمانت نہیں تھی۔

فوجی خاندانوں کے بچے مسکرانا، اپنا بستہ باندھنا اور ہر مرتبہ نئے سرے سے زندگی شروع کرنا سیکھ جاتے ہیں۔ کوئی ان سے نہیں پوچھتا کہ بار بار سب کچھ چھوڑ کر جانے میں کتنا درد ہوتا ہے۔

میں ہر روز اپنی اہلیہ میں یہ حوصلہ دیکھتا ہوں۔

اور میں نے یہی حوصلہ نیہا میں بھی دیکھا۔

رانچی میں ایک شخص نے نیہا کے چہرے پر سیاہی پھینکی اور انہیں ملک دشمن قرار دیا۔

اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ دہلی میں پہلے ہی پیلٹ گن کے چھروں اور لاٹھیوں کا سامنا کرچکی ہیں۔ سیاہی انہیں خوف زدہ نہیں کرسکتی۔

سیاہی دھل جاتی ہے۔

توانائی کے شعبے میں ہم کہتے ہیں کہ لوگ آپ پر جو کچھ پھینکتے ہیں، وہ اسی وقت آپ کے اندر جگہ بناتا ہے جب آپ اسے اپنے اندر اتار لیتے ہیں۔

نیہا بظاہر کسی پینڈولم کو ہاتھ میں لیے بغیر ہی اس حقیقت کو سمجھتی ہیں۔

ان کے خاندان کو ان کے فیصلے سے اتفاق نہیں تھا۔ گھر میں اختلافات ہوئے، بحثیں ہوئیں اور تلخی بھی پیدا ہوئی۔

لیکن جب نیہا بھوک ہڑتال پر تھیں تو ان کی والدہ جنتر منتر پہنچیں۔

مجھے نہیں معلوم کہ اس وقت ماں اور بیٹی کے درمیان کیا گفتگو ہوئی۔ اور سچ تو یہ ہے کہ مجھے یہ جاننے کی ضرورت بھی نہیں۔

میں ایک والد ہوں۔

میں جانتا ہوں کہ ایک ماں کے دل پر کیا گزرتی ہوگی جب وہ اپنی بیٹی کو سڑک پر کمزور، نڈھال اور نحیف حالت میں دیکھتی ہے، لیکن اس کے باوجود اسے اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے پاتی ہے۔

ایسے لمحے میں تمام دلیلیں، تمام اختلافات اور تمام شکایتیں کہیں پیچھے رہ جاتی ہیں۔

صرف ایک احساس باقی رہ جاتا ہے:

یہ میری بچی ہے۔

نیہا نے کہا کہ انہوں نے ابھی تک اپنے والد سے بات نہیں کی ہے۔

میں ان کے والد کو نہیں جانتا۔ لیکن میں بھی ایک باپ ہوں اور جانتا ہوں کہ ہم جیسے مردوں کے لیے بعض باتوں کو زبان پر لانا کتنا مشکل ہوتا ہے۔

اس لیے اگر وہ اب تک یہ بات اپنی بیٹی سے نہیں کہہ سکے تو مجھے چینئی میں بیٹھ کر ان کی طرف سے یہ کہنے دیجیے:

بیٹی! ہمیں تم پر فخر ہے۔ اب جاؤ اور اچھی طرح کچھ کھا لو۔

اس سارے واقعے کے دوران میرے ذہن میں ایک ایسا خیال آیا جس کی میں نے کبھی توقع نہیں کی تھی۔

کاش! میری ایک اور بیٹی ہوتی، نیہا جیسی۔

اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اس سے میری اپنی بیٹی کی اہمیت کم ہوجاتی ہے۔ وہ میری پوری دنیا ہے اور ہمیشہ رہے گی۔

لیکن نیہا نے میرے سامنے ایک ایسا مشکل سوال رکھ دیا جس سے پہلے میں نے کبھی اس انداز میں نہیں سوچا تھا۔

ہم اپنی پوری زندگی اپنے بچوں کو محفوظ رکھنے، انہیں کامیاب بنانے اور زندگی میں آگے بڑھانے کی کوشش کرتے ہوئے گزار دیتے ہیں۔

لیکن کیا ہم انہیں کبھی یہ سکھاتے ہیں کہ آگے بڑھتے ہوئے ایک مرتبہ پیچھے مڑ کر بھی دیکھیں؟

یہ دیکھیں کہ راستے میں کون پیچھے رہ گیا ہے؟

کون ہے جسے ہماری مدد کی ضرورت ہے؟

کون ہے جس کی آواز سننے کے لیے کوئی تیار نہیں؟

اور اگر کسی دن ہمارے بچے کسی اجنبی کے حق کے لیے کھڑے ہوجائیں، تو کیا ہم بھی ان کے ساتھ اسی طرح کھڑے ہوں گے جس طرح نیہا کی والدہ ان کے ساتھ کھڑی ہوئیں؟

یا ہم انہیں گھر واپس آنے، خاموش رہنے اور دوسروں کے معاملات سے دور رہنے کا مشورہ دیں گے؟

شاید والدین کی اصل ذمہ داری صرف اپنے بچوں کو دنیا کی سختیوں سے محفوظ رکھنا نہیں، بلکہ انہیں اتنا باہمت بنانا بھی ہے کہ وہ دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرسکیں اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھا سکیں۔

اور جب ہمارے بچے ایسا کرنے کی ہمت دکھائیں تو ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کی روشنی کی حفاظت کریں۔

چاہے وہ روشنی ہمیں خوف زدہ ہی کیوں نہ کردے۔
مترجم ۔۔۔۔۔۔جاوید اختر زکی خان
نیہا بورا کے والد، کے۔ شرد ہکسر کی جانب سے اپنی بیٹی کے نام لکھا گیا یہ دل گداز پیغام ہر شخص کو پڑھنا چاہیے۔



Source