نظر میں خواب کے منظر بناتی رہتی ہوں
جو سوچتی ہوں ‘ ہَوا کو سُناتی رہتی ہوں
عجیب سلسلہ ہے میرے دل کے زخموں کا
وہ دیکھتا ہی نہیں ‘ مَیں دِکھاتی رہتی ہوں
سما ہی جاؤُں کبھی اُس کی یاد میں شاید
سو ‘ اُس کے سامنے مَیں آتی جاتی رہتی ہوں
ہے میری جاں میں سخُن زاد کوئی اَن دیکھا
ہَوا میں جس کی شبیہیں بناتی رہتی ہوں
وہ مِل ہی جائے گا ‘ اِس ایک خوش گُمانی میں
ہر ایک غم کو ہنسی میں اُڑاتی رہتی ہوں
مِلاتی رہتی ہوں دُکھ ‘ رابعہؔ ! اِن اشکوں میں
ورَق ورَق پہ ستارے بناتی رہتی ہوں
( رابعہؔ سرفراز )

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔