نظر میں خواب کے منظر بناتی رہتی ہوں جو سوچتی ہوں ‘…


نظر میں خواب کے منظر بناتی رہتی ہوں
جو سوچتی ہوں ‘ ہَوا کو سُناتی رہتی ہوں

عجیب سلسلہ ہے میرے دل کے زخموں کا
وہ دیکھتا ہی نہیں ‘ مَیں دِکھاتی رہتی ہوں

سما ہی جاؤُں کبھی اُس کی یاد میں شاید
سو ‘ اُس کے سامنے مَیں آتی جاتی رہتی ہوں

ہے میری جاں میں سخُن زاد کوئی اَن دیکھا
ہَوا میں جس کی شبیہیں بناتی رہتی ہوں

وہ مِل ہی جائے گا ‘ اِس ایک خوش گُمانی میں
ہر ایک غم کو ہنسی میں اُڑاتی رہتی ہوں

مِلاتی رہتی ہوں دُکھ ‘ رابعہؔ ! اِن اشکوں میں
ورَق ورَق پہ ستارے بناتی رہتی ہوں

( رابعہؔ سرفراز )