نظر حیرت زدہ سی ہے قدم بہکے ہوئے سے ہیں
شباب آیا ہے ان پر اور ہم بہکے ہوئے سے ہیں
ابھی ان کے کرم کی بات اپنے حسنِ ظن تک ہے
مگر امید وارانِ کرم بہکے ہوئے سے ہیں
وفا کے سلسلے ميں ہو ہی جاتی ہے غلط فہمی
وہ بہکائے گئے سے ہیں نہ ہم بہکے ہوئے سے ہیں
بڑے ذی ہوش بنتے تھے مئے عشرت کے متوالے
ہوا ہے جب سے کچھ احساسِ غم بہکے ہوئے سے ہیں
… More
جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔