نذر حضرتِ اقبالؒ
محبّت کی پِھر اِبتِدا چاہتا ہُوں
"مِری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہُوں”
مَیں رنگوں کا شیدا مَیں خوشبُو کا رسیا
چمن چاہتا ہُوں صبا چاہتا ہُوں
مِری پیاس چِھینٹوں سے کب بُجھ سکے گی
مَیں صحرا ہُوں دریا پِیا چاہتا ہُوں
مُسافِر کو جو جادُو پیما بناۓ
سَحر دم وہ بانگِ درا چاہتا ہُوں
ہر اِک شادماں ہو ہر اِک بےخطر ہو
مَیں ایسی چمن میں فضا چاہتا ہُوں
مَیں تیرا تُو میرا مگر اِس کے باوصف
تشخُص مَیں اپنا جُدا چاہتا ہُوں
جو خُفتہ دِلوں کو بھی بیدار کردے
کمالؒؔ ایسی کوئ نوا چاہتا ہُوں۔۔۔!

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔