نا آشنائے درد نہیں بے وفا نہیں
اک آشنا کہ ہائے مرا آشنا نہیں
لاؤں جو دل کی بات زباں پر تو کس لیے
میں جانتا نہیں ہوں کہ تُو جانتا نہیں
جلتا رہا ہوں زیست کے دوزخ میں عمر بھر
یہ اور بات ہے مری کوئی خطا نہیں
اک ساغرِ حیات کی خاطر تمام عمر…


نا آشنائے درد نہیں بے وفا نہیں
اک آشنا کہ ہائے مرا آشنا نہیں
لاؤں جو دل کی بات زباں پر تو کس لیے
میں جانتا نہیں ہوں کہ تُو جانتا نہیں
جلتا رہا ہوں زیست کے دوزخ میں عمر بھر
یہ اور بات ہے مری کوئی خطا نہیں
اک ساغرِ حیات کی خاطر تمام عمر…

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔