میں ہوں ، تم ہو ، رات ہے ٫ اور خاموشی
کانوں میں آواز کا رَس ، تم گھول رہی ہو
کوئل بول رہی ہے ، یا تُم بول رہی ہو ؟
میں ہوں ، تم ہو ، رات ہے ٫ اور خاموشی
شام تیری آواز میں ، کھوئی کھوئی سی
موسم پَل پَل ، تیرے سَپنے بُنتا ہے
بہتے پانی کے ٫ مِیٹھے ہلکاروں میں
دِل میرا ، آواز تُمہاری سُنتا ہے۔
کلیاں کِھلتی ہیں ، یا تم لَب کھول رہی ہو؟
کوئل بول رہی ہے ، یا تُم بول ہی ہو؟
میں ہوں ، تُم ہو ، رات ہے ٫ اور خاموشی
یُوں تیرے ہونٹوں سے ٫ لفط نِکلتے ہیں
کالی رات میں جیسے ٫ چاند نِکلتا ہے
ساز ادھُورا ہے ٫ تیری آواز بِنا
نَغمہ تیرا ہاتھ پکڑ کر چَلتا ہے
تم اَنمول ہو ، اور سَدا اَنمول رہی ہو
کوئل بول رہی ہے ، یا تُم بول رہی ہو؟
میں ہوں ، تم ہو ، رات ہے ٫ اور خاموشی
تُو خوشبُو سی ، بِکھری ہے اَطراف میرے
میں دیوانہ ٫ تیرے سُروں پر مَرتا ہوں
اِس سے بَڑھ کر ، اور مُحبت کیا ہو گی؟
میں تیری آواز کو ٫ سَجدہ کرتا ہوں۔
تم مُجھ میں چُھپ کے ، مُجھ سے کچھ بول رہہی ہو
کوئل بول رہی ہے ، یا تم بول رہی ہو؟
میں ہوں، تم ہو، رات ہے ٫ اور خاموشی۔
(ظَفر گورکھپوری)
انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی
Comments
One response to “میں ہوں ، تم ہو ، رات ہے ٫ اور خاموشی کانوں میں آ…”
میں ہوں ، تم ہو ، رات ہے ٫ اور خاموشی
عمدہ