میں چاہتا بھی یہی تھا وہ بے وفا نکلے اُسے سمجھنے …

میں چاہتا بھی یہی تھا وہ بے وفا نکلے
اُسے سمجھنے کا کوئی تو سلسلہ نکلے

کتابِ ماضی کے اَوراق اُلٹ کے دیکھ ذرا
نہ جانے کون سا صفحہ مُڑا ہوا نکلے

میں تجھ سے مِلتا تو تفصیل میں نہیں جاتا
میری طرف سے تیرے دل میں جانے کیا نکلے

جو دیکھنے میں بہت ہی قریب لگتا ہے
اُسی کے بارے میں سوچو تو فاصلہ نکلے

تمام شہر کی آنکھوں میں سُرخ شعلے ہیں
وسیمؔ گھر سے اب ایسے میں کوئی کیا نکلے

(وسیم بریلوی)

المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی