میں نے کہا ” وہ پیار کے رشتے نہیں رہے "
کہنے لگی کہ ” تم بھی تو ویسے نہیں رہے "
پوچھا ” گھروں میں کھڑکیاں کیوں ختم ہو گئیں؟”
کہنے لگی ” وہ جھانکنے والے نہیں رہے "
اگلا سوال تھا کہ مری نیند کیا ہوئی؟
بولی ” تمہاری آنکھ میں سپنے نہیں رہے”
پوچھا ” کہاں گئے مرے یارانِ خوش خصال؟”…

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔