میں لب کشا نہیں ہوں اور محو التجا ہوں​ میں محفل ح…

میں لب کشا نہیں ہوں اور محو التجا ہوں​
میں محفل حرم کے آداب جانتا ہوں​ ​
جو ہیں خدا کے پیارے میں ان کو چاہتا ہوں​
اُن کو اگر نہ چاہوں تو اور کس کو چاہوں​ ​
ایسا کوئی مسافر شاید کہیں نہ ہوگا​
دیکھےبغیر اپنی منزل

سے آشنا ہوں​ ​
کوئی تو آنکھ والا گزرےگا اس طرف سے​
طیبہ کےراستےمیں ، میں منتظر کھڑا ہوں​ ​
یہ روشنی سی کیا ہے، خوشبو کہاں سےآئی؟​
شاید میں چلتےچلتےروضےتک آگیا ہوں​ ​
طیبہ کےسب گدا گر پہنچانتے ہیں مجھ کو​
مجھ کو خبر نہیں تھی میں اس قدر بڑا ہوں​ ​
اقبال مجھ کو اب بھی محسوس ہو رہا ہے​
روضےکےسامنےہوں اور نعت پڑھ رہا ہوں
(شاعر جناب سیّد اقبال عظیم)