میر تقی میر کی صاحب زادی ' بیگم لکھنؤی ' کی غزل
برســـوں غـم ِ گیســـــو میں گـرفتار تو رکّھا
اب کہتے ہو کیا ' تم نے مجھے مار تو رکّھا
کچھ بے ادَبی اور شب وصــــــل نہیــں کی
ہاں ' یار کے رخســار پہ رخســار تو رکھا
اتِنا بھی غنیمت ہے تری طرف سے ظالم !
کھــڑکی نہ رکھی ' روزن دیــوار تو رکّھا
وہ ذبح کرے یا نہ کرے غـــم نہیں اِس کا
سَرہم نے تہہ ِ خنجر ِ خوں خوار تو رکّھا
اِس عشق کی ہمّت کے مَیں صدقے ہوں کہ بیگم ؔ
ہر وقت مجھـــــے مــــرنے پَــہ تیّــــار تو رکّھا
(بیـــگُـم لکھنؤی )

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔