“میرے ابو زندہ تھے… لیکن میں نے اُنہیں آہستہ آہستہ…


“میرے ابو زندہ تھے… لیکن میں نے اُنہیں آہستہ آہستہ تنہا مرنے دیا 😓💔 اور مجھے اس بات کا احساس اُس دن ہوا جب میری چھوٹی بیٹی نے پوچھا: ‘بابا… دادا ابو ہم سے ناراض ہیں کیا؟’” 🥹

میرا ہاتھ چائے کے کپ پر رُک گیا۔

میں نے اُس کی طرف دیکھا۔

معصوم آنکھیں… سادہ سوال…

اور ایک ایسا سچ… جس سے میں خود برسوں سے بھاگ رہا تھا۔

“نہیں بیٹا… وہ ناراض نہیں ہیں…”
میں نے آہستہ سے کہا۔

مگر اندر سے ایک آواز آئی،
ناراض نہیں… اکیلے ہیں۔

میری امی کو گزرے تین سال ہو چکے تھے۔

اُن کے جانے کے بعد ابو ویسے نہیں رہے تھے۔

پہلے وہ محلے کے سب سے زندہ دل آدمی تھے۔
ہر شام چائے پر دوست،
ہر جمعہ کو قریبی مسجد میں بیٹھک،
ہر عید پر سب سے پہلے دروازہ کھٹکھٹانے والے۔

مگر اب…

وہی گھر،
وہی برآمدہ،
وہی پرانی کرسی…

بس ابو اکیلے رہ گئے تھے۔

اور میں؟

میں بیٹا ہوتے ہوئے بھی… مہمان بن گیا تھا۔

مہینوں بعد جانا،
دو گھنٹے بیٹھنا،
جلدی میں اُٹھ جانا…

اور جاتے ہوئے وہی جملہ،
“ابو اگلی بار زیادہ دیر بیٹھوں گا.”

مگر “اگلی بار” کبھی آیا ہی نہیں۔

اُسی دن شام کو، جب بیٹی کا سوال میرے ذہن میں گونج رہا تھا، میری بیوی نے خاموشی توڑی۔

“آپ کے ابو ہر ہفتے فون کرتے ہیں…”
وہ بولی، “آپ اکثر اُٹھاتے نہیں.”

میں نے نظریں چرا لیں۔

“مصروف ہوتا ہوں…” میں نے آہستہ سے کہا۔

وہ قریب آئی، آواز نرم تھی مگر سچ بھاری،

“مصروفیت اور نظراندازی میں فرق ہوتا ہے.”

یہ جملہ… سیدھا دل میں لگا۔

اُس رات میں نے کافی دیر فون کو دیکھا۔

پھر آخرکار… کال کر دی۔

ابو نے فوراً اُٹھایا۔

“ارے واہ… آج یاد کیسے آ گئی؟”

میں ہنسنے کی کوشش کرتا رہا،

“ایسے ہی ابو… سوچا بات کر لوں.”

ہم نے کافی دیر بات کی۔

انہوں نے پوچھا،
“کام کیسا چل رہا ہے؟”

میں نے بتایا،
“بیٹی سکول میں ڈرامہ کر رہی ہے…”

وہ خوش ہوئے۔

پھر آہستہ سے بولے،

“کبھی لے کر آؤ اُسے… گھر سنسان ہو گیا ہے.”

میں نے فوراً کہا،
“ضرور آؤں گا ابو… اگلے اتوار.”

انہوں نے بس “ٹھیک ہے” کہا۔

مگر اُس “ٹھیک ہے” میں امید کم… عادت زیادہ تھی۔

اتوار آیا…

اور چلا گیا۔

کام، تھکن، مہمان، مصروفیات…

ہر بار ایک نیا بہانہ… اور میں خود کو مطمئن کرتا رہا۔

پھر ایک دن ابو کی کال آئی۔

آواز پہلے سے زیادہ دھیمی تھی۔

“بیٹا… تمہارے چچا آ رہے ہیں… سوچا تم بھی آ جاؤ… پرانے دن یاد آ جائیں گے.”

میں نے بغیر سوچے کہا،
“کوشش کروں گا ابو.”

چند لمحے خاموشی رہی…

پھر وہ بولے،

“تم ہمیشہ کوشش ہی کرتے ہو…”

یہ جملہ…

اس بار دل میں نہیں… روح میں لگا۔

اُس رات نیند نہیں آئی۔

میں نے پہلی بار سوچا…

کیا واقعی میں مصروف ہوں… یا صرف غافل؟

اگلے دن میں نے کوئی پلان نہیں بنایا۔

کوئی اطلاع نہیں دی۔

بس سیدھا گاڑی نکالی… اور ابو کے گھر جا پہنچا۔

دروازہ آدھا کھلا تھا۔

وہ برآمدے میں بیٹھے تھے…

ہاتھ میں پرانا کپ…
آنکھیں سڑک پر۔

جیسے کسی کا انتظار ہو۔

مجھے دیکھ کر چونک گئے۔

پھر مسکرا دیے…

وہی پرانی مسکراہٹ… جو میں بھول چکا تھا۔

“آ گئے…؟” انہوں نے پوچھا۔

بس دو لفظ…

مگر اُن میں اتنی خوشی تھی… کہ میں شرمندہ ہو گیا۔

ہم اندر گئے۔

گھر ویسا ہی تھا…

بس امی کی خوشبو کم ہو گئی تھی۔

انہوں نے چائے بنائی۔

ہم بیٹھ گئے۔

کچھ دیر بعد انہوں نے پوچھا،

“پتا ہے میں ہر ہفتے فون کیوں کرتا ہوں؟”

میں نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،

“کیونکہ آپ مجھے یاد کرتے ہیں؟”

وہ ہنسے نہیں۔

بس سیدھا میری طرف دیکھا…

اور کہا،

“اس لیے کہ تمہیں یاد رہے… تمہارا باپ ابھی زندہ ہے.”

میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔

میں نے نظریں جھکا لیں۔

“معاف کر دیں ابو…” میں نے آہستہ سے کہا۔

انہوں نے ہاتھ میرے کندھے پر رکھا،

“زندگی مصروف ہو جاتی ہے بیٹا… مگر رشتے چھوڑنے سے نہیں چلتے.”

ہم دیر تک بیٹھے رہے۔

پرانی باتیں…

ہنسی…

یادیں…

اور وہ سکون… جو میں نے سالوں سے محسوس نہیں کیا تھا۔

جاتے وقت انہوں نے کہا،

“اگلی بار تم چائے بنانا… میں بس بیٹھوں گا.”

میں نے ہنستے ہوئے کہا،

“پکی بات.”

مگر…

وہ “اگلی بار” کبھی نہیں آیا۔

چند ہفتوں بعد صبح فون آیا۔

“آپ کے ابو… انتقال کر گئے ہیں.”

میں سُن ہو گیا۔

جب اُن کے گھر پہنچا…

سب کچھ ویسا ہی تھا۔

مگر وہ نہیں تھے۔

میز پر ایک کپ رکھا تھا…

خالی۔

اور اُس کے نیچے ایک کاغذ۔

میں نے اٹھایا۔

اُن کی لکھائی تھی۔

“بیٹا،
تم آئے تھے اُس دن… اچھا لگا۔
کبھی کبھی آ جایا کرو…
گھر کو بھی اور مجھے بھی زندگی مل جاتی ہے۔”

میں وہیں بیٹھ گیا…

اور پہلی بار سمجھ آیا…

اکیلا مرنا کیا ہوتا ہے۔

آج بھی…

ہر اتوار…

میں ایک کپ چائے بناتا ہوں…

اور ایک خالی کپ اپنے سامنے رکھتا ہوں۔

میری بیٹی پوچھتی ہے،

“یہ دوسرا کپ کس کے لیے ہے؟”

میں مسکرا کر کہتا ہوں،

“دادا ابو کے لیے…”

پھر دل میں ایک بات گونجتی ہے…

اگر آج بھی کوئی آپ کا انتظار کر رہا ہے…
تو “کبھی” مت کہیے…
کیونکہ کبھی… اکثر کبھی نہیں آتا۔