#میری_چاہت_بس_تیری_حقدار
#تحریر_شگفتہ_نواز
#قسط_نمبر_07_اور_08
ایکسکیوز می میری بات سنیں منہل نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہا ج کھڑا تھا
کیا مسلا ہے آپ کا اس دن کا تھپڑ بھول گے ہیں جو واپس کھانے آ گے ہیں منہل نے بازوں کو باندھتے ہوے کہا اپنے سینے پے
میں تو بھول گیا ہوں اس تھپڑ کو اور چاہتا ہوں کے آپ بھی بھول جاؤ وہاج نے مسکراتے ہوے کہا میں اس دن کے لیے بہت شرمندہ ہوں مجھے آپ کا ہاتھ نہی پکڑنا چائیے تھا
اہ اچھا تو آپ کو احساس ہو گیا ہے ویری گڈ یہ تو بہت اچھی بات ہے منہل نے منہ ہلاتے ہوے کہا
جی اب آپ مجھے معاف کر دیں پلز وہاج نے کان پکڑتے ہوے کہا
اوکے ٹھیک ہے میں نے اآپ کو معاف کیا منہل نے واپس مڑتے ہوے کہا
تھنکس وہاج سامنے آ گیا آپ نہی جانتی کے کتنابڑا احسان کیا ہے آ پ نے مج پے
ہو گیا احسان اب پیچھے ہٹو منہل کو پھر غصہ آ رہا تھا
جی یہ لیں ہٹ گیا پیچھے وہاج نے پیچھے ہٹ کر منہل کو جانے کا راستہ دیا
منہل جا چکی تھی اور وہاج دل ہی دل میں خوش ہو رہا تھا کے اس کی پہلی چال کمیاب ہو چکی تھی اس نے سوچ لیا تھا کے وو پیار سے سب کچھ کرے گا اور اک دن منہل کو اپنے قدموں میں جھکا کے رہے گا اس لیے جب وو سینٹر سے واپس آ رہی تھی تو اس کے راستے میں مافی مانگنے کا ناٹک کرنے لگا تھا
منہل تو اتنی معصوم تھی کے اسے ان چالوں کا بھی کب پتا چل سکتا تھا
………………………………………………………………….تمہیں پتا ہے جب میں تمہیں سوچتا ہوں تو زندگی کی ساری خو شیاں پا لینے کے احساس سے کھل اٹھتا ہوں تم میری زندگی کا سب سے قیمتی تحفہ ہو خدا کی طرف سے زوہیب آج منہل کو بیچ پے لے آیا تھا جس کا منہل کو بہت شوق تھا اور منہل نے ضد لگا لی کے اب مجھ سے محبت کا اظھار بھی کرو
لو جی روز تو کرتا ہوں محبت کا اظھار زوہیب نے منہ بناتے ہوے کہا لیکن وو تو کال پے کہتے ہو نہ مجھے تو سامنے بیٹھا کے اظھار کروانا ہے منہل نے بچوں کی طرھ ضد کرتے ہیوے کہا
اچھا جی تو سنو تمہری آنکھوں میں کھو جانے کو دل کرتا ہے جو اس سمندر سے بھی زیادہ گہری ہیں تمہری زلفوں کے سایہ تلے سونا چاہتا ہوں جو گھٹا سے بھی گہری کالی ہیں تم سے میں اتنی محبت کرتا ہوں کے میں خود کو بھی بتانے سے ڈرتا ہوں تمہیں کھو دینے کی سوچ ہی میری جان نکالنے لگتی ہے پلز مرنے کی باتیں نہی کریں منہل نے زوہیب کے منہ پے اپنا ہاتھ رکھ دیا میں آ پ کے بنا اک لمحہ بھی نہ جی سکوں گی منہل جذباتی ہو رہی تھی اور زوہیب کے کندھے پر سر رکھ کر رونے لگ گئی
لو یہ کیا ہو گیا تمہیں تم تو بلکل ہی پاگل ہو منہل زوہیب نے منہل کو بہت مشکل سے چپ کروایا
چلو فش کھاتے ہیں زوہیب نے منہل کو اٹھایا اور ادھر فش کھانے کے لیے چلے گے دونو ں
…………………………………………………………………کیسی ہو آپ وہاج اچانک سے نمودار ہو گیا تھا جب منہل کنزا کے ساتھ شوپنگ کرنے آئ ہوئی تھی
آپ جہاں منہل اسے دیکھ کر چونک گئی
ہاں جی جدھر آپ ادھر آپ کا یہ غلام وہاج نے سر جھکانے کے انداز میں کہا
میں نے آپ کو کب اپنا غلام بنایا ہے منہل کو اس پے انتہا کاغصہ آرہا تھا
آپ نے نہی بنایا میں خود بن گیا ہوں وہاج نے پورے کانفیڈنس کے ساتھ کہا
دیکھیں مسٹر وہاج مجھ سے زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہی ہے اور نہ ہی میرا پیچھا کرنے کی چاھتے کیا ہیں آپ منہل کو اس سے بہت چڑ ہو رہی تھی
میں آ پ کو چاہتا ہوں اور چاہتا ہوں کے آپ بھی مجھے چاہو وہاج نے پرسکون لہجے میں کہا
آپ کادماغ خراب ہو گیا ہے اور یہ عجیب سی بات ہے کے آپ چاہیں تو میں بھی چاہوں منہل نے غصے سے کہا
تو آپ تھوڑا ٹائم لے لو بس مجھے جواب ہاں میں دے دینا وہاج یہ کہا اور مسکراتا ہوا منہل کا جواب لیے بنا ہی وہاں سے نکل گیا اور منہل کو تو تپ چڑ ھ رہی تھی اس پے
………………………………………………………………..
پتا نہی اپنے آپ کو سمجھتا کیا ہے جیسے میں تو اس کے انتظار میں بیٹھی ہوئی ہوں کے وو اظھار کرے گا اور میں فورن ہاں کر دوں گی منہل نے آتے ہی شوپنگ بیگز پھینکے اور منہ ہی منہ میں بڑ بڑانے لگی
یار کس طرح کی انسان ہو تم مجے وہاں اکیلا چھوڑ کے آ گئی تم اور میں تمہیں وہاں پورے مال میں ڈھونڈ ڈھونڈ کے پاگل ہوتی رہی کنزا کو منہل پے بہت غصہ آ رہا تھا جو اس کو شوپنگ مال میں ہی چھوڑ کر آ گئی تھی وہاج کی وجہ سے
اہ شیٹ مجھے تو یاد ہی نہی رہا کے تم بھی میرے ساتھ ہو منہل نے اپنے سر پے چیت مارتے ہوے کہا
ہاں تم تو ویسے ہی اپنے ہوشو حواس کھو چکی ہو تمھرے ساتھ تو کہی بھی نکلنا نہی چائیے کنزا مسلسل غصے سے بولتی جا رہی تھی
یار چپ کر جاؤ پھلے اس وہاج کے بچے نے میری زندگی عذاب بنا دی روزہی پیچھا کرتا ہے میرا اور آج تو اظھار بھی کر دیا اور کہتا مجہے ہاں میں ہی جواب دینا منہل نے ساری بات کنزا کو بتائی یار یہ تو بہت پرشانی والی بات ہے اور اسے تو سب جانتے ہیں کے وو کیسا انسان ہے کنزا نے پرشان ہوتے ہوے کہا
ہاں یار یہی تو پرشانی ہے کے اب کیا ہو گا منہل نے پرشانی میں کہا
چلو چھوڑو جو بھی ہو گا دیکھا جایا گا فکر نہی کرو کنزا منہل کو حوصلہ دے کر چلی گئی لیکن منہل کا چین اڑ چکا تھا
…………………………………………………………………کہاں تک بات پوھنچی تمہری پھر روحیل نے آج وہاج کو خوشگوار موڈ میں دیکھا تو پوچھنے لگا
اظھار کر دیا ہے میں بس اب اس نے ہاں کرنی ہے وہاج نے کانفیڈنس سے کہا
ضروری ہے کے وو ہاں کرے سوہیل نے پوچھا
ہاں ضروری ہے کیوں کے اس سے وہاج کمال نے محبت کا اظھار کیا ہے اور سب جانتے ہیں کے مجھے نہ سننے کی عادت نہی ہے وہاج نے اسی پرسکون انداز میں کہا اور اگر اس نے نہ کر دی تو کیا کرو گے حفیظ نے حیرت میں پوچھا
پھر اور بھی بہت سے طریقے ہیں اس کو لائن پے لانے کے وہاج نے مسکراتے ہوے کہا
سب چپ ہو گے کیوں کے وو جانتے تھے کے وہاج کو ہارنے کی عادت نہی ہے.
تو پھر کیا سوچا آپ نے وہاج چلتی ہوئی منہل کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے لگا جب وو سینٹر جا رہی تھی
کس بارے میں منہل اس بار بلکل نہیں چونکی تھی کیوں کے وو جانتی تھی کے وو آیا گا پیچھے
آپ کی اور میری چاہت کے بارے میں وہاج نے چلتے ہوے ہی منہل کو دیکھا
کیا مطلب آپ کی اور میری چاہت منہل کو اس پے غصہ آ رہا تھا جو بلا وجہ ہی اپنی چاہت کو اس پے مسلط کر رہا تھا
میں نے اپ سے کہا تھا کے میں آپ سے محبت کرتا ہوں اور مجھے جواب ہاں میں چاہئیے وہاج نے بلا خوف خطر اپنا مدعا بیان کیا
میرا جواب نہ ہے منہل نے بھی خوف کو دور رکھا اپنے آپ سے
تو سوچ لو آپ دوبارہ وہاج کو تو جیسے اس کی بات کی پرواہ ہی نہی تھی
مجے سوچنے کی ضرورت نہی میرا جواب کل بھی نہ تھا آج بھی نہ ہے اور آنے والے کل میں بھی نہ ہی ہو گا منہل نے رک کر اپنے اک اک لفظ پے زور دے کر کہا
دیکھو منہل میں پیار سے تمہیں سمجھا رہا ہوں مجھے نہ سننے کی عادت نہیں ہے اس لیے تمھرے پاس ہاں کرنے کے سوا کوئی آپشن نہی ہے ورنہ وہاج نے وارن کرتے ہوے کہا
ورنہ کیا منہل کے بھی اس کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہو گئی
ورنہ انجام کی ذمہ دار تم خود ہو گی وہاج نے پر سکوں لہجے میں کہا
مجھے کسی انجام سے کوئی ڈر نہی منہل دل میں تو بہت ڈر گئی تھی لیکن وہاج کے سامنے کمزور نہی پڑنا چاہتی تھی اس لیے اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتے ہوے کھنے لگی
ok just wait and watch
وہاج نے اپنی انگلی منہل کی طرف کرتے ہوے کہا اور وہاں سے نکل گیا منہل کتنی دیر وہی ساکت کھڑی رہی آخر سینٹر کی طرف چل پڑی
…………………………………………………………………منہل تم ابھی تک تیار نہی ہوئی سارے گیسٹ آ چکے ہیں کنزا اوپر منہل کے کمرے میں آئ تو وو ابھی کنھی سوچوں میں گم بیٹھی تھی پتا نہی وہاج اب کیا کرے گا وو اندر ہی اندر سے بہت ڈر چکی تھی
ہاں میں بس ابھی اٹھ رہی ہوں منہل اچانک کنزا کی آمد سے confuse ہو گئی اس لیے اٹھنے لگی
ہاں جلدی کرو آ پ کے زوہیب صاحب کب سے آپ کا پوچھ رہے ہیں کنزا نے اسے مزید بتایا آج نادیہ کی مگنی تھی اس لیے زوہیب کو بھی انوائٹ کیا گیا تھا اہ شیٹ منہل کو بھی اب احساس ہو رہا تھا کے وو ایسے ہی کسی اور کو سوچ رہی تھی اور اس کا محبوب تو نیچے بیٹھا اس کا انتظار کر رہا تھا
ہاں بس میں ابھی 5 منٹ میں آئ ممہل نے کنزا کو کہا اور واشروم میں چلی گئی چینجنگ کے لیے
بڑی دیر لگا دی مہربان مہرباں آتے آتے
زوہیب نے منہل کو آتے دیکھا تو شاعری کرنے لگا منہل کو شرم آ رہی تھی پر زوہیب کو دیکھ کر اسے اندر ہی اندر سکوں سا مل رہا تھا اور کچھ دیر کے لیے وو وہاج جیسی مصیبت کی سوچ سے بھی آزاد ہو گئی تھی
مگنی کی رسم میں بھی منہل اور زوہیب ساتھ ساتھ رہے فوٹو شاٹ اور ویڈیو میں بھی وو ساتھ ساتھ رہے
چلو جی اب میں چلوں زوہیب منہل کو کھ رہا تھا نہی آپ نہی جاؤ ادھر ہی رہ جاؤ منہل نے زوہیب کے کندھے پر سر رکھ دیا کیوں کے وو سکوں چاہتی تھی وہاج کی سوچوں سے پناہ چاہتی تھی
اچھا جی یہ بچوں والی باتیں نہی کرتے زوہیب نے اسے پیچھے کیا اور اپنی امی کو بلا نے چلا گیا کچھ دیر بعد ہی زوہیب اور اس کی امی گھر چلے گے تھے پھر منہل دوبارہ اسی سوچ میں چلی گئی کے نہ جانے وہاج اب کیا کرے گا
…………………………………………………………………اپنے آپ کو سمجھتی کیا ہے وو میں تو بہت پیار سے اسے اپنے بیڈ کی زینت بنانا چاہتا تھا لیکن اس کے تو نخرے ہی ختم نہی ہو رہے اور دن با دن میرے اندر بدلے کی آگ مزید بھڑک رہی ہے وو تھپڑ مجھے بلکل چین نہی لینے دیتا وہاج اپنے دوستوں کے سامنے اپنےغصے کا اظھار کر رہا تھا
تو اب آگے کیا سوچا تم نے حفیظ نے پوچھا
کیا سوچنا ہے وہی کرنا ہے جو اک طاقتور مرد کو کرنا چائیے اب منہل کو زبردستی اپنے بستر کی زینت بناؤں گا وہاج نے مکارانہ مسکراھٹ سے کہا
تو پھر اب پلا ن کیا ہے روحیل نے پوچھا
وہاج نے اپنا سارا پلان انھیں بتا دیا تھا
واپسی پر جب منہل جا رہی تھی تو اس کے پاس آ کر اک گاڑی رکی منہل بہت ڈر گئی تھی وہاج گاڑی سے اترا اور منہل کو زبردستتی کینچنھے لگا منہل اس سے پھلے کے شور مچاتی حفیظ نے اس کے منہ پے رومال رکھ کر اسے بیہوش کر دیا وہاج نے اسے اپنی باہوں میں اٹھا کر گاڑی میں ڈال دیا اور خود بھی پیچھے اس کے ساتھ والی سیٹ پے بیٹھ گیا
روحیل نے گاڑی تیز رفتار سے وہاں سے بھگا لے گیا
………………………………………………………………….ابھی تک منہل واپس نہی آئ میرے اللّه میری بچی پر رحم کرنا 3 بج گے تھے منہل ابھی تک گھر نہی پوھنچی تھی شازیہ بیگم کو بہت ہی فکر ہو رہی تھی
سعد بیٹا جا کر سینٹر سے پتا کرو ابھی تک منہل کیوں واپس نہی آئ شازیہ بیگم سعد کے روم میں گئی جہاں اس کی امی بھی مجود تھی
ہا ہیئ ابھی تک نہی آئ تمہری منہل مجھے تو دال میں کچھ کالا لگرہا ہے جوان جہاں بیٹی کو اکیلا چھوڑا ہوا تھا زرینہ تو واویلا ہی مچانے لگ گئی
پلز امی یہ ٹائم نہی ہے ایسی باتوں کا پھپھو پھلے ٹینشن میں ہیں اور اپ مزید انھیں پرشان کر رہی ہیں سعد نے اپنی امی کو سمجھانے کی کوشش کی
پپھو میں ابھی پتا کر کے آتا ہوں آپ پرشان نہی ہوں سعد تسلی دیتے ہوے نکل گیا سینٹر سے پتا کیا تو انہوں نے بتایا کے وو تو فورن نکل گئی تھی اس کی دوستوں کے جتنے بھی کونٹکٹ تھے سب سے پتا کر لیا لیکن کوئی آتا پتا نہی چلا
ہمیں پولیس میں رپورٹ کروا دینی چایئے سعد نے اپنے ابو سے مشورہ مانگنے کے انداز میں کہا
کیا کھ رہے ہو تم تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے کیا ہم نہی جانتے وو اپنی مرضی سے گئی یا زبردستی لیکن عزت تو ہمری خراب ہو گی ریحان صاحب نے غصے سے کہا
لیکن ایسی باتیں کہاں چھپتی ہیں رات تک سارے مھلے کو پتا چل چکا تھا کے منہل گھر نہی آئ
زوہیب کے گھر والوں تک بھی یہ خبر پوھنچ چکی تھی منہل کے گھر میں اک کہرام مچ چکا تھا آخر پولیس کو بھی انوولو کرنا پڑا.
جاری ہے

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔