میری باتیں مہکی مہکی جیسے میر کے نازک شعر
ان کی باتیں سوچی سمجھی جیسے غالب کا دیوان
…
شبنم رومانی کی وفات
February 17, 2009
(ولادت دسمبر 30، 1928؛ انتقال فروری 17، 2009)
شبنم رومانی کا اصل نام مرزا عظیم بیگ چغتائی تھا اور وہ 30 دسمبر 1928ء کو شاہ جہاں پور (بھارت) میں پیدا ہوئے تھے۔
17 فروری 2009ء کو طویل علالت کے بعد شبنم رومانی کراچی میں وفات پاگئے۔
منتخب کلام
کیوں نہ میں تہمت اٹھاؤں ، کیوں نہ میں طعنے سہوں
ایک تو شبنمؔ تخلص وہ بھی رومانیؔ کے ساتھ
ہونٹوں پر بھی تہمت آئی ، بانہوں پر الزام کے بعد
کیسا کیسا دل دھڑکا ہے ایک سہانی شام کے بعد
مجھے یہ زعم کہ میں حسن کا مصور ہوں
انہیں یہ ناز کہ تصویر تو ہماری ہے
ہم اس شہرِ حسن میں آ کر اپنا غم بھی بھول گئے
جس گل رو کو غور سے دیکھو ، چہرہ زرد آنکھیں ویران
تجھ سے بچھڑ کے مجھ کو خود اپنی تلاش ہے
آخر فلک سے ٹوٹ کے تارا کدھر گیا ؟
