مولانا چراغ حسن حسرتؔ کی شہرت زیادہ تر ایک صحافی کی رہی لیکن وہ ایک اعلیٰ پائے کے شاعر بھی تھے۔اُنہوں نے بہت سی نظمیں اور غزلیں بھی لکھیں لیکن ان کا زیادہ تر کلام یا تو نا پید ہوگیا یا پھر منتشر حالت میں ہے۔حسرتؔ کے کلام کے چند اشعار ذیل میں پیش کیے جاتے ہیں جن سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ وہ کس پائے کی شاعری کرتے تھے۔
جوانی مٹ گئی لیکن خلش دردِ محبت کی
جہاں معلوم ہوتی تھی وہیں معلوم ہوتی ہے
اُمید تو بندھ جاتی تسکین تو ہو جاتی
وعدہ نہ وفا کرتے وعدہ تو کیا ہوتا
غیروں سے کہا تم نے غیروں سے سنا تم نے…
جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔