مولانا عبدالمجید سالک اپنی یادداشتوں پر مشتمل کتاب "یاران_کہن” میں مسلمان عورت کی تعلیم و تہذیب اور حقوق کے عظیم علم بردار مولوی سید ممتاز علی کے متعلق رقم طراز ہیں۔۔۔
☆ آزادی_نسواں یا حریت_ نسواں ☆
” میں ستمبر 1915ء میں مولوی صاحب کے دو ہفتہ وار اخباروں یعنی ” تہذیب_نسواں” اور "پھول” کا ایڈیٹر مقرر ہوا۔ اور اسی دن سے میری مطمئن ادبی زندگی کا آغاز ہوا۔ مولوی صاحب کے صاحب زادے سید حمید علی اور سید امتیاز علی مجھ سے بھائیوں کا سا برتاؤ کرتے تھے اور مولوی صاحب بھی بے انتہا شفقت فرماتے تھے۔ وہ میری نظم و نثر اور زبان و بیان میں میری اصلاحی صلاحیت کو دیکھ چکے تھے۔ اس لیے میری تربیت پر خاص توجہ صرف کرتے تھے۔
مسائل_نسواں میں مولوی صاحب کی احتیاط کا یہ عالم تھا کہ وہ بیواؤں کے نکاحِ ثانی اور پردے کے متعلق رضامندی کو شرط قرار دیتے تھے۔ اگر بیوہ رضامند ہو تو اس کا نکاحِ ثانی کیا جائے ورنہ نہیں۔ اگر کوئی عورت پردہ نہ اٹھانا چاہے تو وہ مختار ہے اور اگر ترک کرنا چاہے، جب بھی اس کا روکنا درست نہیں۔
ایک دفعہ میں نے کسی مضمون میں” آزادئ نسواں” کی ترکیب لکھ دی تو کہا:
” میاں سالک! "آزادئ نسواں” کی جگہ "حریتِ نسواں” لکھا کرو۔ "حریت” ایک دینی اصطلاح ہے جس کا مقصود ہے بعض بنیادی حقوق، جو دین نے عورت کو دیے ہیں۔ "آزادی” کا لفظ غلط فہمی پیدا کرتا ہے۔ ”
[ ” یاران_کہن” ، از : مولانا عبدالمجید سالک سے مقتبس۔ ناشر : مطبوعات_چٹان، لاہور۔ اشاعت_اول؛ دسمبر 1955ء صفحہ 59 تا 60 ]
انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی