من_در_عشق_باشما_ہستم_از_ثمرین_شاہ #Episode_38 #P…


من_در_عشق_باشما_ہستم_از_ثمرین_شاہ
#Episode_38 #Part_3
وہ چلتے اس کے کمرے میں آئی دیکھا تو وہ اب پریکٹس کر کے پانی کی بوتل پینے میں مصروف تھی ساتھ میں صفحے پہ غور کررہی تھی
"پریکٹس کیسی جارہی ہے ؟۔”
صبح نے سر اُٹھایا تو مسکرائی
"توبہ آپی پہلے تو لگا تھا بے حد آسان ہے پر اب تو لگتا ہے جیسے سب کچھ بھول گیا ہے بہت کم دن رہ گئے ہیں اور کام بہت زیادہ اوپر سے ہیری دل کرتا ہے سر نوچ لو مجھے ضرور ہروائے گا اپنے ڈائیلوگ بازی مارنے لگتا ہے اور بیچ میں اسے ہنسی آجاتی ہے ایک صرف میں اور گل شیر ہے اچھا کام کررہے ہیں ۔”
وہ چل کر اس کے پاس آئی
"گل شیر کون ؟۔”
"اللہ گل شیر کو نہیں جانتی آپ گل شیر گل شیر ۔”
وہ ایک دم بولنے لگی تھی اور پھر جیسے بولتے بولتے رُک گئی
"نہیں تم بہت سے لوگوں کا مجھے سے ذکر نہیں کرتی۔”
"کچھ لوگ ضروری نہیں ہوتے جن کا ذکر کیا جائے ۔”
وہ اسامہ کو یاد کرتے ہوے غصے سے بولی ایک تو ایک بار بھی نہیں پوچھا
"ماما کی بات یاد ہے تمھیں !۔”
ثمرن نے بڑے عام سے لہجے میں کہا تھا
"جی کیا کہا تھا انھوں نے ۔”
"لڑکی ہر بات مجھے یاد دلاتی ہو اب خود بھول جاتی ہو انھوں نے کہا تھا میں دیتی ہوں سونے کا نوالہ اور رکھتی ہوں شیر کی نظر ۔”
"امی کو اس کی ضرورت ہی نہیں ہوتی ہم خود ہی سب کچھ بول جاتے تھے یا ایک دوسرے کی چغلی لگا دیتے ۔”
ثمرن ہنس پڑی
"خیر اب باتوں کو نہ گھماؤں جو دل میں ہے بول ڈالو میں ہرگز تمھیں ڈانٹوں گی ۔”
ثمرن نے اب سنیجدگی سے کہا تو نور چونک پڑی
"کیا ؟۔”
"نور تم بھولی نہیں ہو ۔”
"ہاں وہ تو ہے پر آپ کو ہوا کیا اچانک ایسے ۔”
"اپنے دل کا۔۔۔۔۔۔”
"ثمرن آپی اس کو کپڑے چینج کرواے اس نے تھڑو کردیا ۔”
جسیمن اسے شرارتی امیرالڈ آنکھوں والی بلی کو اُٹھایا جو اپنی حرکت پہ رونے کے بجائے کھلکھلا کر ہنس رہی تھی اور اس کی گردن منہ دینے لگی کہ جسمین نے فوراً ثمرن کو پکڑایا ثمرن نے گھورا سفائر کو
"میری بیٹی کو ایسے نہ کیا کرو کیا ہوا ایک تو کھاتی بھی اتنا سا ہے کیوں سفو جانو ۔”
نور صبح نے حمایت کی اس کی
"ایک تو اس لڑکی نے مجھے پریشان کیا ہے ابھی فیڈ کروایا تھا او ہاں جسمین چینج کر کے صبح کا پارسل پکڑ دینا میں اس نہلا کر لاتی ہوں جلدی سے دین کو پتا چلا نا مجھے پر برسے گے ۔”
••••••••••••••••••••
وہ ڈریس پہن کر آئینے کے سامنے آئی لال رنگ کے انارکلی کے آوٹ فٹ میں وہ کسی کھلی ہوئی گلاب سے کم نہیں لگ رہی تھی اس کو سوٹ بالکل فٹ ہوا تھا برش اُٹھا کر وہ پہلے اپنے بال سیٹ کرنے لگی مگر اس کے بال الجھ رہے تھے پیج میں سے
"اُف ایک تو یہ لمبے بال بھی عذاب ہیں ۔”
اس نے برش میں پھنسے بالوں کو نکالنا چاہا کہ ایک ہاتھ نے اس کے ہاتھوں کو پکڑا اس نے جلدی سے آئینے میں دیکھا گرے شرٹ اور بلیو جینز میں وہ چھایا ہوا لگ رہا تھا اتنے بڑے آئینے میں بھی اس کے دراز قد سے اس کا چہرہ چھپ گیا تھا
"کیا دو پونیاں بنانی ہیں تمھاری ۔”
وہ اس کے کانوں کے بالکل قریب بولا تھا وہ ڈر کر دروازے کی طرف دیکھنے لگی
"انارکلی بنے جارہی ہوں سکول گرل نہیں ۔”
وہ مڑ کر ناراضگی سے کہتی برش لینے لگی جب اسامہ نے ہاتھ پیچھے کیے
"ناراضگی صبح میڈم کو سوٹ نہیں کرتی وہ تو الٹا بدلا لیتی ہے میں پورے دو دن بدلے کا منتظر تھا مگر یہاں تو بائیکاٹ کیا ہوا ہے ۔”
"میری محبت پر شک کیا تھا تم نے تمھیں پتا ہے اسامہ تم ہر بار مجھے ہرٹ کرتے ہو میں تمھیں ہر بار معاف کردیتی ہوں میں نے کھبی کسی کے ساتھ ایسا نہیں کیا اور بار بار تم میری محبت کا فائدہ اُٹھاتے ہو ۔”
"او تو میں سپیشل ہوں تمھارے لیے لیکن اس میں میرا کیا قصور تم خود مجھے غصہ دلاتی ہو اور میرے غصے کو تمھیں بچپن سے معلوم ہے ۔”
"اب مجھے تنگ مت کرو ویسے بھی آج میرا موڈ سخت خراب ہے ویسے بھی پلے بہت خراب جانے لگا ہے ۔”
وہ برش لے کر جانے لگی کے اسامہ نے اس کی کلائی تھام لی
"اجازت ہے !!۔”
اس نے بال بنانے کا کہا تھا وہ اس کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن اس کا اجازت ہے کہنا بہت اچھا لگا تھا بہت سی چیزیں تھی اسے اسامہ کی پگھلا کے رکھ دیتی اسے بیڈ پہ اشارہ کرتی وہ اب اپنے پنز اُٹھانے لگی وہ نیچے بیٹھ گئی جبکہ وہ اوپر بیڈ پہ
"ایک مزے کی بات بتاو تمھیں ۔”
"اپنا کام کریں آپ یہ مت بھولے میں آپ سے راضی ہوگی اصل میں بال میں اب بھی آپی سے بناتی ہوں اور وہ سفو جان کو سلا رہی ہیں ۔”
"ویسے اتنا پیارا نام ہے اس کا تم خوامخواہ بگاڑ رہی ہو ۔”
وہ اس کے بالوں کو اپنی مٹھی میں لیتا ہوا بولا
وہ اپنے بازو پہ لگے کام کو چھیڑنے لگی اسے لگا اسامہ اب تعریف کریں گا اب کریں گا مگر ایسا ہوسکتا تھا کہ چکی کھبی تعریف کریں وہ بال بنانے میں بے حد مصروف تھا
"تمھیں پتا ہے غزل کیا کہتی ہے ۔”
وہ چونک مگر بولی کچھ نہیں
"سُن رہی ہو ۔۔”
وہ بال کھینچتے ہوے بولا
"اُففف !!! ۔”
اس نے تیزی سے اسامہ کی ٹانگوں پہ مکا مارا
"اُف ظالم ویمپ !!!۔”
"چھوڑ دو میرے بال ۔”
"نہیں یہ تمھارے نہیں یہ میرے بال ہے ویسے تمھیں آج مجھے سوری کہنا چاہیے تھا ۔”
"کس خوشی میں ۔”
وہ مڑ کر طنزیا انداز میں اسے دیکھتے ہوے بولی
"مجھے تھپڑ مارا تھا کتنی بدتمیز بیوی ہو ۔”وہ گھورتے ہوے بولا
"تھپڑ تو بہت کم تھا تمھارے بال کھینچنے چاہیے تھے مار مار کر خون نکال دینا چاہئے تھا ۔۔۔”
وہ اب اس کے بال بنا چکا تو اچانک دستک ہوئی
وہ ایک دم تیزی سے اُٹھی
"صبح آپی !!! ثمرن آپی کھانے کے لیے بلا رہی ہیں ۔”
صبح نے گہرا سانس لیا اس نے اپنے بال نہیں دیکھیں اس نے جلدی سے اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا
"اب جاو یہاں سے ویسے بھی آج ثمرن آپی کو شک پر گیا تھا وہ تو شکر تھا سفو آگئی چلو یہاں سے ۔”
"یار کھانے پہ بلا رہی ہیں بھابی چلو نا ۔۔”
وہ اسے تنگ کرتے ہوے بولا
"بھابی تمھیں کھانا بنادی گی اگر انھوں نے تمھیں یہاں دیکھ لیا اور کب بات کرو گے آپی سے ۔”
"میرا موڈ نہیں ہے جب میری بیوی مجھے نہیں مناتی میں کیوں بھلا مناؤں بھابی کو ۔”
"تھینک یو فور ہیر ۔۔۔”
اس نے عام سے پونی کے بجائے فش ٹیل بریڈ وہ بھی اتنی خوبصورت دیکھی تو اس کا منہ کھل گیا
"جانتا ہوں اچھی ہے بتانی کی ضرورت نہیں مجھے مناؤں !!!۔”
"اسامہ جاو !!۔”
"آپی دروازہ تو کھول دیں ۔۔”
"تم جاو میں آرہی ہوں ۔۔۔۔”
وہ تیزی سے بولی
"پہلے مناو !!۔”
وہ اب بستر پہ ٹانگ پہ ٹانگ رکھے بیٹھ گیا صبح نے اسے پھر اپنے فون کو دیکھا تیزی سے اُٹھا کر میوزک میں وہی گانا لگا دیا جس دن اسامہ رویا تھا
"مان گیا بے بی اب جائے یہاں سے ۔۔”
اسامہ کا منہ اُتر گیا
"تم جیسی بچوں والی بیوی ہو تو پھر آدمی کا اللہ ہی حافظ !!۔”
وہ تاسف سے سر ہلاتا اُٹھ پڑا
مگر جاتے ہوے اس کے بال کھینچ کر بھاگا تھا
"چکی !!۔”
مگر وہ صاحب کسی سپائڈر مین کی طرح ٹیرس سے غائب ہوگیا تھا
••••••••••••••••
"ثمرن جی میں آپ کی بہن سے بہت محبت کرتا ہوں میں جانتا ہوں میرے پاسٹ میں کافی لڑکیوں سے دوستی رہے ہے مگر صبح کو جب سے دیکھا ہے جب سے جانا ہے مجھے سب عورتیں بے حد معمولی لگنے لگے ہے اس کے آگئے اب پلیز ہاں کردیں میں صبح کو جلدازجلد اپنا چاہتا ہوں ۔”
"اسامہ لڑکیوں سے دور بھاگتا ہے اسے تو ایک عجیب سی الرجی ہے ان سے غصہ کا اتنا تیزی کے کیا بتاو مگر اس کا دل بے حد صاف ہے اتنا کہ شاہد کسی کا بھی نہ ہو ۔”
"آپ بیشک مجھے مار لے مگر پلیز اس پر ہاتھ نہ اُٹھائے ۔”
"ویسے آپ کی بہن میں کتنا غرور ہے کوئی بندہ ہو تو اسے تھپڑ لگادیں ۔”
قاسم تیزی سے بولا تھا
"میں اس کو اس کے اپنوں سے دور نہیں کرسکتا تھا جو محبت اور جو خیال آپ رکھ سکتی ہیں وہ اور کوئی نہیں ۔”
"آپی اسامہ نے کھبی مجھے ایسا ویسا ہاتھ نہیں لگایا
وہ تو سوتا بھی صوفے پہ تھا اور میں جب بے ہوش ہوئی تو وہ مجھے ہاسپٹل لے کر گیا مجھے کپڑے بھی دیں اور تو اور میری پونی بناتا اس نے مجھے سینڈوچ بھی رات کو بنا کر دیا تھا آپی اس نے مجھے کھبی مارا بھی نہیں تھا ۔”
"آپی قاسم نے مجھ پہ ہاتھ اُٹھایا میں نے اس کے کپڑے گندے کردیں پر میری غلطی نہیں تھی میں نے پھر اسے بیٹ مارا تو آنٹی نے ڈانٹا !!۔”
"آپ کی بہن آپ کے حوالے کررہا ہوں ۔”
"میرے میں اگر زرا بھی کھوٹ ہوا تو مجھے آپ کو کہنے کی ضرورت نہیں ہوگی میں نور صبح کو طلاق دیں دوں گا اور یہاں سے چلا جاوں گا ۔”
"آپ ہماری ڈرائیور کی بیوی ہے مجھے مت ڈانٹے سمجھی ۔”
تیرہ سالا قاسم اسے غصے سے بولا
"آپ میرے ماں کی جگہ میرے لیے قابل احترام !۔”
وہ سفائر کو سلاتے اچانک زہن میں اسامہ اور قاسم کا موازنہ کرنے لگی ساری باتیں اسامہ کی حق میں جارہی تھی ایک بات کوئی ایک بات اس میں غلط ہو سواے اس کے اس نے نور صبح سے چھوٹی عمر میں نکاح کیا
"میرا چکی میرا دوست چلا گیا آپی ۔۔۔۔ آپ نے اچھا نہیں کیا ۔”
کس نے چٹکی بجائی
"کہاں گُم ہے میری موشم !!۔”
صلاح الدین نے جھک کر سفائر کو پیار کیا اور اسے پیار سے دیکھتے ہوے کہا
"کہی نہیں یہی ہوں ۔”
"خاموش خاصی لگ رہی ہو کہی پھر محترمہ کو غصہ نہیں آئے گا ۔”
وہ شرارت سے بولا
"آپ بھی نا دین !!۔”
"ارباز کی ڈیٹ فکس ہوگئی ہے اس کی ساس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے تو شادی جلداز جلد رکھ لی ۔”
وہ اب اس کے چہرے کے تاثرات کو جانچتے ہوے بولا جبکہ وہ بالکل نارمل انداز سے سُن رہی تھی جیسے یہ نیوز اس کے لیے نیو اور شاکنگ نہ ہو
"ڈیٹ کب ہے اس کی ۔”
ثمرن آہستہ سے کہا
"اگلے مہینے کی تیسری تاریخ یعنی دس دن رہ گئے ہیں میں تمھیں فورس نہیں کروں گا ۔۔۔
"ٹھیک ہے میں کل جسمین کو شاپنگ کے لیے لے جاوں گی نور اپنی ریہرسل میں بزی ہے اس کا بھی بس ہفتہ رہ گیا ہے اس کے بعد فارغ ہے ۔”
"کیا مطلب ؟ ۔”
"مطلب کا کیا سفائر اپنے دادکے نہیں جائے گی اور میں موری کو بہت مس کررہی ہوں ۔”
صلاح الدین کا منہ حیرت سے کھل گیا اسے یقین نہیں آیا کہ ثمرن کے منہ سے نکلا ہے
"موشم یہ تم نے ابھی جو بولا ہے دوبارہ بولنا ۔”
"دین سوجائے مجھ بہت نیند آرہی ہے ۔”
"میں جیسے سونے دوں گا تمھیں بولو پھر سے ۔”
وہ اس کے پاس آیا اور کہا
"مجھے بہت زیادہ والی نیند آرہی "دین !!!۔”
"موشم تم نے آج مجھے بہت خوش کردیا ۔”
"زیادہ خوش نہ ہوے دین !!!۔”
وہ اس کی شرارت سے تیزی سے اُٹھی
••••••••••••••••••