ملتان : 14 سالہ وسیم کا ق۔ت۔ل ۔۔۔ بچوں کی کمائی کھانے والے یتیم خانے کی بجائے چکلہ کھول لیتے ۔۔۔۔۔ چندے ، اداروں اور مخیر حضرات کی امدادیں ، حکومتی فنڈ ، اس سے بھی پیٹ نہ بھرا تو بچوں کو درندوں کے سپرد کردیا ۔۔۔۔۔ ملتان کے اس یتیم خانے کا شرمناک کرتوت جہاں وسیم اور اسکا چھوٹا بھائی رہتے تھے ۔۔۔۔زبردستی کام کروانے اور مارنے پیٹنے سے بھاگنے کے جرم میں کار کے نیچے کچل کر مارے جانیوالے 15 سالہ وسیم کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ یہ دو یتیم بھائی اپنی ماں کی دوسری شادی کے بعد یتیم خانے میں داخل کروائے گئے تھے ۔ یتیم خانے والے بچوں کو ہنر سکھانے کی آڑ میں کرائے پر روانہ کرتے تھے انہیں بچوں کی زندگیوں سے نہیں ٹھیکیداروں سے ملنے والے پیسوں کی فکر تھی ۔ ملتان پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعے پر ویڈیو میں نظر آنے والے دونوں ملزمان کے خلاف ق۔ت۔ل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے جن میں سے ایک کو گرفتار کرنے کے بعد منگل کے روز عدالت پیش کیا گیا،دوسرا ملزم مفرور ہے جس کی گرفتاری کے لیے ریڈ جاری ہیں۔پولیس کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وسیم کو سات روز قبل الیکٹریشن کا کام سیکھنے کے لیے یتیم خانے سے ایک ٹھیکیدار کے پاس بھیجا گیا تھا۔’ملزم ٹھیکیدار ہے جو مختلف عمارتوں میں بجلی کے کام کے ٹھیکے لیتا تھا۔ ماضی میں بھی یتیم خانے کے بچے اس کے پاس کام کرتے رہے ہیں ۔ یتیم خانے کی انتظامیہ سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے کہ ’وہ کس اختیار کے تحت یہاں مقیم لڑکوں کو پرائیویٹ افراد کے پاس بھجواتے رہے ہیں اور اس بارے ان کا ٹھیکیداروں سے کوئی معاہدہ ہوا ہے کہ نہیں۔اگر یتیم خانے کی انتظامیہ کا کوئی قصور پایا گیا تو ان کے خلاف بھی قانونی کارروائی ہوگی۔‘ادھر ملتان پولیس کی حراست میں موجود ملزم اور کار کے ڈرائیور کا دعویٰ ہے کہ اس نے وسیم کو ’دانستہ طور پر ق۔ت۔ل نہیں کیا۔‘ وسیم دوڑ رہا تھا اور ان کا ارادہ اسکے آگے کار روکنے کا تھا لیکن گاڑی پھسل گئی اور وسیم سے جاٹکرائی ملزمان کا کہنا ہے کہ وسیم نے کام سے بھاگنے کی کوشش کی تھی اور وہ پہلے بھی کام سے بھاگ جاتا تھا ۔۔۔۔۔
Source
