محمد قلی قطب شاہ کی وفات January 21, 1611 اردو کے…


محمد قلی قطب شاہ کی وفات
January 21, 1611

اردو کے پہلے صاحب دیوان شاعر محمد قلی قطب شاہ کا انتقال 21 جنوری 1611ء کو ہوا تھا۔ محمد قلی قطب شاہ جنوبی ہند کے گولکنڈہ کے قطب شاہی خاندان کے سب سے ممتاز بادشاہ تھے۔ وہ 1565ء میں پیدا ہوئے تھے اور 1580ء میں اپنے والد ابراہیم قلی قطب شاہ کی وفات پرتخت نشین ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنی محبوبہ بھاگ متی کے نام پر ایک شہر بھاگ نگر آباد کیا مگر کچھ ہی عرصے بعد انہوں نے حضرت علی ؑ کے نام پر اس شہر کا نام حیدرآباد رکھ دیا۔ محمد قلی قطب شاہ کو فن تعمیر سے خاص دلچسپی تھی اور انہوں نے حیدرآباد میں کئی مشہور عمارتیں تعمیر کروائیں۔ وہ فارسی ، دکنی ، تلنگی اور اردو زبان میں شاعری کرتے تھے۔ انہیں اردو کا پہلا صاحب دیوان شاعر تسلیم کیا جاتا ہے ان کے دیوان کو ان کی وفات کے بعد ان کے بھتیجے اور جانشین سلطان محمد قطب شاہ نے مرتب کیا تھا اور اسے 1941ء ڈاکٹر محی الدین زور نے جدید ترتیب کے ساتھ شائع کیا تھا۔

قلی قطب شاہ ریاست گولکنڈ ہ کے فرمانروا تھے آپ کا دور حکومت تقریباً تیس سال رہاہندوستان کے مشہور شہر حیدرآباد کی بنیاد قلی قطب شاہ نے ہی رکھی اور چار مینار کی تعمیر کروائی۔
قلی قطب شاہ بڑے ہی علم دوست ، عربی اور فارسی کے ماہر اور اردو کے پہلے صاحب دیوان شاعر تھے۔
آپ کے مجموعہ کلام میں غزلیات ، رباعیاں قصیدے اور مختلف قطعات وغیرہ شامل ہے۔قلی قطب شاہ کا کلام دکنی اردو ادب کو پیش کرتا ہے ان کے دور میں اردو فروغ پا رہی تھی ۔ قلی قطب شاہ کو بلا مبالغہ ابان اردو کا architect کہا جا سکتا ہے جنہوں نے اپنے کلام میں بکثرت ہندی فارسی اور عربی الفاظ اور پنجابی و دکنی محاروں کو استعمال کیا اپنی ریاست
میں اردو زبان کو عام بول چال کی زبان بنانے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔