#لذتِ_عشق
#از_سنیا_چوہدری
#قسط_نمبر_13
آریان کی بات صحیح تھی سر نے اسے کچھ بھی نہیں بولا تھا اور کچھ ہی دیر بعد اس کی اسائمنٹ آگئی تھی وفا نے اپنے اسائمنٹ سبمِٹ کروا دی تھی اور کچھ دیر پہلے والی پریشانی بلکل غائب تھی وہ مزے سے سارا کے ساتھ کینٹین میں بیٹھ کر نان کھا رہی تھی
"وفا جلدی جلدی کرو نا سر کا لیکچر ہونے والا ہے”
"کچھ نہیں ہوتا یار آرام سے کھاؤ "(وفا نے بے فکری سے کہا
"پتا ہے نا کل کیا ہوا تھا روبینہ کے ساتھ” (سارا نے کلاس کی لڑکی کا نام لیا
"وہ تو روز لیٹ آتی تھی اسلئے باہر کھڑی ہوئی تھی نا ”
جب بیل ہوئی تو وہ دونوں جلدی جلدی کلاس کی طرف بڑھیں اور کلاس کے دروازے پر جا کے سانس لیا آریان کو کلاس میں دیکھ کر سارا نے غصےسے وفا کو دیکھا
"مے وی کم ان سر” (سارا نے کہا
"نو” (آریان جواب دے کے دوبارہ کلاس کی طرف متوجہ ہو چکا تھا
جب کے سارا وفا کو گھوریاں دےرہی تھی
"سوری سر نیکسٹ ٹائم نہیں ہو گا” (وفا نے کہا
آریان نے کوئی جواب نہیں دیا اور اپنا لیکچر جاری رکھا دس سے پندرہ منٹ گزر چکے تھے ان دونوں کو ادھر کھڑے ہوئے آریان نے ان کو دیکھا
"کم ان "(وہ بول کر دوبارہ کلاس کی طرف متوجہ ہو چکا تھا
"تھینک یو سر "(دونوں نے کہا اور آ کے اپنی سیٹس پر بیٹھ گئیں
واپسی پر بھی وفا خاموش ہی رہی جب کے آریان نے بھی کوئی بات نا کی
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
وفا اب بور ہو جاتی تھی کیوں کے حرم بھی نہیں تھی ادھر آج بھی وہ بور سی بیٹھی ہوئی تھی جب احسن آفندی آفس سے واپس آیے
"السلام عليكم بابا "(وفا نے سلام کیا
"وعلیکم السلام بیٹا”
وفا ان کے لئے پانی لے آئ
"تھینک یو بیٹا” (
"بابا کھانا لگاؤں” (وفا نے گلاس لیتے ہوے پوچھا
"بلکل بیٹے میں فریش ہو کے آتا ہوں ”
احسن آفندی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے جب کے وفا کچن کی طرف چلی گئی
احسن صاھب کھانا کھا رہے تھے جب انہوں نے وفا کو محاتب کیا
"وفا بیٹا میرے ایک بہت اچھے دوست کے بیٹے کی شادی ہے تو میں چاہتا ہوں کے آپ اور آریان جاؤ
دیکھو بیٹا میں جانتا ہوں کن حالات میں اپکا نکاح ہوا پر بیٹا ایک دفع آریان پے بھروسہ کر کے دیکھو میں یہ نہیں کہتا کے وہ ٹھیک ہے کیوں کے آپ کو میں نے اپنی بیٹی مانا ہے تو میں ہمیشہ آپ کے ساتھ ہوں ٹھیک ہے ؟”(انہوں نے پیار سے سمجھتے ہوے پوچھا
"جی بابا ”
"تو پھر شام کو آپ تیار رہنا”
"جی ”
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
وفا سوچ رہی تھی کون سا ڈریس پہنے بابا کو تو کہ دیا تھا پر اب اسےٹینشن ہو رہی تھی ابھی وہ یہی سوچ رہی تھی کہ آریان آیا
"وفا یہ لو” (اسنے ایک شاپنگ بیگ وفا کی طرف بڑھایا
"یہ کیا ہے” (وفا نے نارمل طریقے سے پوچھا شائد یہ بابا کی باتوں کا اثر تھا
"ڈریس ہے شام کو پہننے کے لئے”
"ایک شرط پر شام کو یہ ڈریس پہنوں گی اور آپ کے ساتھ جاؤں گی” (وفا نے کہا
"کونسی شرط "(آریان نے بازو سینے پڑ لپیٹتے ہوےدلچسپی سے پوچھا
"آپنے جواسائنمنٹ دی ہےوہ کل نہیں لیں گے” (وفا کے کہنے پڑ آریان نے اسے ایک گھوری سے نوازا
"پلیز نا لیں نا اتنی لمبی ہے اگر ابھی شروع کروں تو صبح تک کمپلیٹ ہو گی” (وفا نے مسکین سی شکل بناتے ہوۓ کہا
"تو تین دن تھے نا تمہارے پاس کیوں نہیں بنائی یہ تو تمہاری غلطی ہے اور میں تمہیں نوٹس دے دیتا ہوں ان سے بنا لینا اور اب تیاری کرو جا کے "(آریان کے کہنے پڑ وفا کو غصہ تو بہت آیا پڑ کیا کرتی
شام کو جب اسنے ڈریس کھول کر دیکھا تو آریان کی چوائس کی داد دیے بنا نا رہ سکی
وہ بلیک کلر کی بہت خوبصورت فراک تھی وفا تیار ہو رہی تھی تیار ہو کر باہر آئ تو آریان گاڑی میں اسکا انتظار کر رہا تھا وفا آ کے فرنٹ سیٹ پڑ بیٹھ گئی جب کے آریان تو بنا پلک جھپکے وفا کو دیکھ رہا تھاجو سادے سے میکپ میں اور بالوں کو سکارف سے کوور کیے سیدھا اسکے دل میں اتر رہی تھی
"چلیں "(وہ وفا کے بولنے پڑ یک دم چونکا
آریان نے گاڑی سٹارٹ کی دونوں خاموش تھے لیکن اس خاموشی کو گانے کی آواز نے توڑا
زندگانی کے لمحوں کو تیرے نام کردیا
خود کو تیری ہی خاطر بد نام کر دیا
وفا تو باہر دیکھتی ہوئی اپنی ہی دنیا میں تھی اور آریان گاہے بگاہے وفا پڑ بھی نظر ڈال رہا تھا
میں تیری آنکھوں میں دیکھتا ہوں خود کو
تم کو کیا دیکھتا ہے میری نظروں میں کہاں
یک دم وفا کی نظریں آریان کی نظروں سے ٹکرایں وفا نے نظریں چڑا لیں اور دوبارہ باہر دیکھنے لگی جبکے آریان اسکے اس طرح کرنے پڑ مسکرا دیا
فنکشن میں آریان نے اسے بلکل بور نہیں ہونے دیا اور کچھ آریان کی دوست کی وائف سے بھی وفا کی کافی اچھی گپ شپ ہو گئی تھی واپسی پڑ وفا کو تو تھکاوٹ ہی بہت ہو گئی تھی بس دل کر رہا تھا کے جلدی سے پہنچ کے سوے گھر آ کر وہ آپنے کمرے کی طرف جا رہی تھی جب آریان نے بلایا
"ایک کپ کا فی مل سکتی ہے "؟
"جی” (وفا نے کہا اور کچن کی طرف مڑ گئی جبکے آریان اپنےکمرے کی طرف بڑھ گیا وفا نے کافی بنائی اور سوچنے لگی کے اب دے کیسے لیکن دینی تو تھی اسلئے کافی لے کر اسکے کمرے کی طرف چل پڑی دروازہ نوک کر کے اندر گئی اسکا کمرہ دوسرے کمروں کی نسبت بڑا تھا اور نفاست سے سیٹ کیا گیا تھا آریان چینج کر کے صوفےپڑ بیٹھا ہوا لیپ ٹاپ پے کچھ کام کر رہا تھا وفا نے کافی ٹیبل پڑ رکھی اور آریانکو متوجہ کیا
وہ اپنی جگہ سے اٹھ کے وفا کے قریب آیا تھا
"آج بہت پیاری لگ رہی تھی "اسنے کہتے ہوے ٹیبل پے پڑا باکس اٹھایا اور اس میں سے پینڈنٹ نکالکر وفا کے گلے میں پہنایااور ایک چھوٹی سی گستاہی کر دی جب کے وفا کی تو حالت غیر ہو رہی تھی پلکیں عارض پڑ سجدریزہو گئی تھیں
"م میں جاؤں” (وفا نے ہمت کر کے پوچھا
"ہاں جاؤ "(آریان کو بلاخر اسپے ترس آگیاوفا جلدی سے باہر کی طرف بڑھی
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
Apni ray ka izhar zroor kre
جاری ہے

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔