– فلسفہ کی تاریخ (History of Philosophy)
– قسط: 58
– جاگیردارانہ نظام (Feudalism)
پچھلے کچھ اقساط میں ہم نے خاص طور پر جو تاریخ کے حوالے سے ذکر کیا، اس کا مقصد دراصل یہ تھا کہ ہم مشرق وسطیٰ اور یورپ کی تاریخ کے ایک ایسے دور کو سمجھے، جس میں بالخصوص یورپ کے اندر سیاسی، سماجی اور ثقافتی حوالے سے کئی تبدیلیاں رونما ہو رہی تھی، یعنی دوسرے الفاظ میں ایک قسم کا انقلاب برپا ہو رہا تھا۔
The 5th century marks the transition from the Slave-economy to the feudal mode of production.
یعنی پانچویں صدی دراصل غلامی معیشت سے جاگیرداری نظام پیداواری کی طرف تبدیلی کا دور ہے، جو یورپ کی سماجی و اقتصادی ترقی میں ایک اہم موڑ ثابت ہوتا ہے۔
یورپ اب ایک مخصوص معاشی سیاسی نظام (Social economic system) سے نکل کر دوسرے، یعنی ایک مختلف معاشی و سیاسی نظام کے اندر داخل ہورہا تھا۔
جو پہلا نظام تھا وہ ہم جانتے ہیں کہ وہ مکمل طور پر غلامی پر بنیاد رکھتا تھا۔ روم کے اندر زیادہ تعداد میں غلام ہی ہوا کرتے تھے لیکن یہ نیا نظام جو ابھر رہا تھا، جو ہم اس قسط میں سمجھنے کی کوشش کریں گے، وہ بالکل مختلف تھا۔
The fall of Rome and rise of Christianity in the 5th century marks a qualitative change in Europe’s socio-economic system.
یعنی کہ یورپ کے سماجی-معاشی نظام میں پانچویں صدی عیسوی میں روم کا زوال اور عیسائیت کا عروج ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔
سیاسی، سماجی، تصوراتی، ثقافتی، معاشی بنیادیں تبدیل ہونے لگی۔ اس پورے تبدیلی کے دور کو ہم جاگیردرانہ نظام یا فیوڈلزم (Feudalism) کہتے ہیں۔ یہ نظام بنیادی طور پر پانچویں صدی سے ابھر کر سولویں صدی تک جاری رہتا ہے۔
• جاگیردارانہ نظام کے معاشی پہلو
بنیادی طور پر جو غلامی معشیت (Slave economy) تھی، جو کہ غلامی کے نظام پر بنیاد رکھتی تھی، اب روم کے آخری وقتوں میں وہ غلامی والا نظام مزید جاری نہیں رہ سکتا تھا۔ اس کی بنیاد پر اتنی بڑی ریاست قائم ہوچکی تھی کہ اس ریاست کو مزید بڑا نہیں کیا جاسکتا تھا اور اس قدر ظالمانہ بن چکی تھی کہ جس کے نتیجے میں اس کے خلاف ہر طرف سے بغاوتیں جاری و ساری تھی۔
ہر طرف سے روم کے اندر بغاوت جاری تھی، حتیٰ کہ روم کے اندر سے ایسے بہت سارے لوگ تھے جو چاہتے تھے کہ روم کی فتح نہ ہو اور روم کو دشمنوں کے ہاتھوں شکست ہوجائیں۔ کئ سارے رومی جنرلوں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ روم کا ساتھ نہیں دیں گے بلکہ وہ اس کے خلاف جو بغاوت کر رہے ہیں ان کا ساتھ دیں گے۔
رومی سلطنت کی غلامی معیشت ٹوٹنے کے متعدد اسباب تھے۔ ان میں سے ایک سبب ٹیکس (taxes) کی بڑھتی ہوئی شرح تھی۔ روم کے آخری دور میں، ٹیکس کی شرح اتنی زیادہ ہو گئی تھی کہ کسانوں کے لئے زمین پر کاشتکاری کرنا مشکل ہو گیا تھا۔ اس کے علاوہ، روم کے مختلف علاقوں میں بغاوتیں جاری تھیں، جس کی وجہ سے امن و امان کا فقدان تھا۔ ان حالات میں کسانوں کو اپنی حفاظت کے لئے کسی مضبوط قوت کی ضرورت تھی۔
رومیوں نے پہلے کالونیاں قائم کیں تھیں، جن کے اندر کسانوں کو زمین پر کاشتکاری کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ جب دوسرے قبائل نے روم پر قبضہ کیا تو وہ ان کالونیوں کے مالکان بن گئے۔ انہوں نے کسانوں کو کہا کہ وہ زمین پر کاشتکاری کریں گے اور اس کے بدلے میں مالکان ان کی حفاظت کریں گے۔
اس طرح، زمین کی ملکیت کے بدلے میں حفاظت فراہم کرنے کے اصول پر مبنی جاگیردارانہ نظام قائم ہوا۔ اس نظام میں، جاگیردار (Lords) زمین کے مالک ہوتے تھے اور کسان (Serfs) ان کی زمین پر کاشتکاری کرتے تھے۔ کسانوں کو اپنی پیداوار کا ایک حصہ جاگیردار کو دینا ہوتا تھا۔
جاگیردارانہ نظام دراصل اسی روم کی غلامی معیشت کی ٹوٹ پھوٹ کے نتیجے میں ہوئی۔ اس نظام میں زمین کی ملکیت اور حفاظت فراہم کرنے کے اصول پر مبنی ایک نئی معیشت قائم ہوئی۔
The term feudalism comes from the Latin word "feudum” or "feodum” which means "fee” (also called as "feud” or "fief”.
یعنی یوڈلزم کا لفظ دراصل لاطینی لفظ "فیوڈم” سے نکلتا ہے، جس کا مطلب ہے "معاوضہ” (جسے "فیوڈ” یا "فیف” بھی کہا جاتا ہے)۔
• جاگیردارانہ نظام کے نطریاتی و ثقافتی پہلو
The ideology and culture of European feudalism was a synthesis of Indo-European and Semitic beliefs.
یورپی جاگیرداری کا نظام ایک ایسا پیچیدہ سماجی ڈھانچہ تھا جو ہند-یورپی اور سامی ثقافتوں کے عقائد اور روایات کے اختلاط سے تشکیل پایا تھا۔ ان دونوں ثقافتوں کا امتزاج یورپی جاگیرداری کی معاشرت، سیاست اور قانون کی تشکیل میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے، اور اس نئی ترکیب (Synthesis) کو دراصل رومن کیتھولک ازم (Roman Catholicism) کہا جاتا ہے۔
جس میں ہند-یورپی ثقافت سے خاندانی نظام، زمین کی ملکیت اور وفاداری کے تصورات شامل ہیں، جبکہ سامی ثقافت سے بالخصوص مذہبی نظریات شامل تھے۔
As the Church developed into an institution, it transformed over time into an international centre of European feudalism
جیسے جیسے چرچ ایک مستحکم ادارے کی شکل اختیار کر رہا تھا، ویسے ویسے وقت کے ساتھ ساتھ اس میں بھی تبدیلیاں آتی رہیں اور یہ ایک ایسے بین الاقوامی مرکز میں ڈھل گیا جو یورپی جاگیرداری کے نظام کو سہارا دیتا تھا۔ چرچ اس جاگیرداری نظام کی ایک بنیاد اور ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی تھی۔
شروع میں چرچ کے لوگ انتہائی غریب ہوا کرتے تھے، ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں جاتے اور عیسیٰ مسیح ع کا پیغام پہنچاتے۔ پھر جیسے جیسے جب دوسرے علاقے کے لوگ مسیحیت کو قبول کرتے تو وہاں پر اس کے ساتھ ساتھ مخصوص مسیحی کمیونٹی بھی بنتی چلی جاتی۔ جیسے یہ کمیونٹی قائم ہونا شروع ہوئی، تو ان کی دیکھ بال اور حفاظت کے لئے انہوں نے کسی نہ کسی فرد کو بھی انتخاب کرنا تھا، تو اس کے لئے وہ اپنا ایک خاص نمائندہ بناتے۔ وہ نمائندہ ان کے وسائل کی دیکھ بال کرتا۔ اس نمائندے کو بشپ کا نام دیا گیا۔
یہ جو بشپ تھے، یہ انتہائی طاقتور لوگ بنتے چلے گئے، جیسے جیسے چرچ طاقتور ہوتا گیا، ویسے ویسے یہ بشپ بھی طاقتور ہوتے گئے اور روم کا جو بشپ تھا وہ دراصل پوپ (Pope) تھا۔
یہ کہا جا سکتا تھا کہ کچھ علاقوں میں خاص طور پر دہاتی علاقوں میں چرچ کے علاوہ چرچ سے باہر آپ کو کوئی پڑھے لکھے لوگ ملتے ہی نہیں تھے۔
چرچ اس پورے یورپین فیوڈل سسٹم کا ایک اٹل حصہ بن گئی۔
By the late medieval period the Church owned about a third of European land.
نیز چرچ ازخود کہ ایک خود بہت بڑا جاگیردار بن گئی تھی۔یورپ میں قرون وسطی کے آخری دور تک، چرچ کی ملکیت یورپ کی تقریباً ایک تہائی زمین پر محیط تھی اور باقی جو دو تہائی حصہ تھا وہ مختلف جاگیرداروں کی ملکیت تھی۔
اس سے چرچ کے اندر بھی ایک تبدیلی آنی شروع ہوئی۔ وہ تبدیلی یہ تھی کہ جیسے یہ ساری دولت چرچ کے اندر آنی شروع ہوگئی تو اس سے چرچ میں مسیحیت (Christianity) کے اندر رشوت کا رواج پیدا ہوا اور ان کی سوچ جاگیرداری نظام کے ساتھ جوڑ گئی۔
• نتیجہ
ان دروس میں ہماری اصل دلچسپی فلسفیانہ سوچ کے حوالے سے ہیں، مگر اس سوچ کو ہم اس وقت تک نہیں سمجھ سکتے جب تک ہم کچھ نہ کچھ حد تک وہ تاریخی مادی اور معروضی حالات کو نہ سمجھے کہ جس کے نتیجے میں مختلف فلسفیانہ افکار و نظریات تشکیل پائے۔
لہذا یورپ میں پانچویں صدی سے سولہویں صدی تک جاگیردارانہ نظام (Feudalism) قائم رہا۔
یہ نظام تین مختلف ثقافتوں کے امتزاج سے تشکیل پایا؛ سامی ثقافت، ہند-یورپین ثقافت اور جرمن ثقافت۔
سامی ثقافت (Semitic Culture)، یعنی وہ سوچ و فکر اور مذہب جو کہ یہودیت سے عیسائیت کی شکل میں نکل کر یورپ، مغربی یورپ اور اٹلی وغیرہ پورے رومن دنیا (Roman World) میں پھیلتی ہے۔ جیسا کہ ہم نے ذکر کیا کہ سامی ثقافت قدیم یہودیت اور عیسائیت سے متاثر تھی، تو اس لحاظ سے چرچ نے جاگیردارانہ نظام کو مذہبی جواز فراہم کیا۔ چرچ کے مطابق، جاگیردار زمین کے مالک ہوتے ہیں کیونکہ ان کو خدا نے یہ ملکیت عطا کی ہے۔ کسانوں کو جاگیردار کی اطاعت کرنی چاہئیے کیونکہ یہ خدا کی مرضی ہے۔
دوسرا ہند-یورپین ثقافت جو قدیم یونان اور رومی ثقافت سے تشکیل پائی تھی اور تیسرا جرمن ثقافت و روایات جو قدیم جرمن قبائل کی ثقافت تھی۔
قدیم جرمن قبائل میں جنگجوؤں اور رہنماؤں کا ایک مخصوص طبقہ ہوتا تھا۔ یہ طبقہ قبائل کی حفاظت اور قیادت کرتا تھا۔
ان تینوں ثقافتوں و روایات کے امتزاج سے ہی بنیادی طور پر قرون وسطیٰ کی جاگیردارانہ ثقافت (Medieval Feudal Culture) تشکیل پائی۔
– لیکچرر: ڈاکٹر تیمور رحمان
– تحریر و ترتیب: میثم عباس علیزی
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3833594256871079

Comments
4 responses to “– فلسفہ کی تاریخ (History of Philosophy) – قسط: 58 – جاگیردارانہ نظام (Feudalis…”
Excellent
بہت عمدہ سلسلہ ہے
Good information
بہترین معیار کا آرٹیکل ۔۔۔۔مدلل، دلچسپ اور معلوماتی