– فلسفہ کی تاریخ (History of Philosophy) – قسط: 33 – ارسطو کے چار اسباب اور خدا …


– فلسفہ کی تاریخ (History of Philosophy)
– قسط: 33
– ارسطو کے چار اسباب اور خدا کا تصور
(Aristotle’s Four Causes and Concept of God)
ارسطو پہلے سبسٹانس (Substance) اور فارم (Form) کے اندر تفریق کو واضح کرتے ہیں۔
• سبسٹانس (Substance)
سبسٹانس وہ مادی چیز ہے کہ جس سے یہ مادی دنیا بنی ہے۔ مثلاً؛ پتھروں کی بلڈنگ کی سبسٹانس "پتھر” ہے، مٹی سے بنی ہوئی مکان کی سبسٹانس "مٹی” ہوگی۔
یعنی آسان الفاظ میں سبسٹانس وہ مادی چیز ہے کہ جس سے کوئی بھی دوسری مادی چیز بنی ہو۔

• فارم (Form)
فارم وہ شکل و صورت ہے کہ جب وہ مادی چیز بن جاتی ہیں۔ مثلاً ایک سفید اور چار منزلوں والی بلڈنگ کے یہی سفیدی اور چار منزل کو فارم کہہ سکتے ہیں یعنی کس ترتیب سے کیسے بنی ہے اور جس مادی چیز سے وہ بنیادی طور پر بنی ہے وہ اس کی "سبسٹانس” ہے۔

– صلاحیت (Potentiality)
مزید ارسطو یہ کہتے کے کہ ہر سبسٹانس کے اندر فارم بننے کی ایک صلاحیت (Potentiality) موجود ہوتی ہے۔
مثلاً پتھر میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ اس سے ہم ایک بہترین قسم کا مجسمہ بنائے، مٹی کے اندر یہ صلاحیت ہے کہ وہ برتن بن جائے، یہاں پتھر اور مٹی "سبٹانسز” ہیں اور مجسمہ اور برتن "فارمز” ہیں۔
لیکن ہوا (air) کے اندر یہ صلاحیت نہیں ہے کہ وہ ایک مجسمہ بن جائے یعنی کہ ارسطو کے مطابق ہر سبسٹانس کی اندر ایک محدود (Limited) رینج (Range) کی صلاحیت موجود ہوتی ہیں۔

• کیسے سبسٹانس سے ایک فارم بنتا ہے ؟
How does substance become a form?
اب ارسطو اس سوال کی وضاحت کرتے ہیں کہ کس طرح ایک سبسٹانس ایک فارم بنتا ہے یا بن سکتا ہیں۔

ارسطو کے مطابق سب سے پہلے اس عمل کے پیچھے مادی وجہ (Material Cause) ہے۔
1) Material Cause
Determined by the material of which the thing is made.
یعنی کہ وہ مادی چیز کہ جس سے وہ بنی ہے۔

2) Formal Cause
Determined by the form, arrangement, shape, and essence the thing is made of.
یعنی کہ اس چیز کی ایک مخصوص اور منفرد شکل و صورت یا خصوصیت جو اس چیز کو وہ چیز بناتی ہے اور اس چیز کے اندرونی اصول و قوانین کہ جس کے تحت اس کے اندر تبدیلی رونما ہوتی ہیں۔

3) Efficient Cause
Determined by an external agent or force.
وہ بیرونی قوتیں کہ جن کے نتیجے میں اندرونی اصول و قوانین اور بیرونی وجوہات (Causes) مل کر اس کو تبدیل کرکے اس کو ان کے مکمل صلاحیات تک پہنچائے۔

4) Final Cause
Determined by the Final aim or purpose that the thing is serving.
یعنی وہ آخری صلاحیت یا نتیجہ کہ جہاں تک وہ چیز پہچنا چاہتی ہے۔
اب اس کو ایک مثال سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں جیسے، کسی درخت کا مثال لیتے ہیں؛
۰ بیج (seed) ایک مادے کا بنا ہوا ہوتا ہے اور یہ مادہ اس کا میٹریل کاز (Material cause) ہوا۔

اس بیج کے اندر جو عناصر میکس (mix) ہوئے ہیں، جب اس کو خوراک، پانی اور ہوا ملتی ہیں تو وہ کس طرح سے اور کس منفرد شکل و صورت اور خصوصیت کے ساتھ وہ درخت بنتا ہے یہ اس کا فارمل کاز (Formal Cause) ہوا۔

۰ اس بیج کو جب ہم زمین کے اندر ڈالتے ہیں تو اس کو جو ہوا اور پانی وغیرہ ملتی ہیں تو یہ ہوا، پانی اور خوراک وغیرہ اس کے ایفشنٹ کازس (Efficient Causes) ہیں کہ جس کی وجہ سے وہ بیج مسلسل درخت بنتے جارہا ہیں۔

۰ اور جب وہ بیج مکمل نتیجے تک پہنچ جائے یعنی ایک مکمل درخت بن جائے تو یہ اس کا فائنل کاز (Final Cause) یا فائنل نتیجہ ہوا۔

– ٹیلیولوجی (Teleology)
ارسطو کا یہ خیال تھا کہ قدرت کے اندر ٹیلیولوجی (Teleology) ہے۔
Teleology: "Purpose behind everything in nature.”
یعنی ارسطو کے مطابق ہر چیز ایک خاص مقصد کے لئے بنی ہوئی ہیں اور وہ جو مقصد ہے جہاں تک اس چیز کو حتمی پہہنچنا ہے وہ دراصل اس چیز کی حتمی صلاحیت اور حتمی وجہ (Final cause) ہے۔ وہاں جاکر وہ مزید تبدیل نہیں ہوتی اور چیزوں کی ان کے آخری شکل و صورت اور حتمی مقصد سے ہی ہم اس کی مختلف کیٹگیریز بناتے ہیں۔
(آج کل کے سائنسدان یہ نہیں سمجھتے)، یعنی یہ جو مقصدیت ہیں اور ہر چیز کے اس کے مقصدیت سے ہی پہچانی جاسکتی ہیں، یہ آج کے دور میں سائنسدان تسلیم نہیں کرتے۔

– ارسطوئی تصورِ خدا (Aristotle’s Concept God)
"The unmoved Mover”
مزید ارسطو ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ ہر تبدیلی کی کسی نہ کسی طرح ایک سبب/وجہ (Cause) ہوتی ہے کہ جس کی وجہ سے وہ تبدیلی رونما ہوتی ہے اور اس سبب کا اس کے نتیجے/اثر (Effect) سے طاقتور ہونا لازمی ہے کیونکہ اگر وہ سبب یا وجہ طاقتور نہیں ہے تو بلا وہ کیسے دوسرے چیز کو تبدیل کر سکتی ہے یا حرکت میں لاسکتی ہے۔
لہزا ایک عمل (Process) سے پہلے جو وجہ یا سبب ہے وہ اس عمل کے نتیجے میں تبدیلی سے زیادہ طاقتور ہوگا، اس سے پہلے جو کاز (Cause) ہے وہ اس سے زیادہ طاقتور ہوگا، اور اس سے بھی پہلےجو کاز ہوگا وہ اس سے طاقتور ہوگا اور اس طرح سے ہم اس کازس (Causes) کے سلسلے کو انیفینٹی (Infinity) تک پیچھے لے چلے اور پہلے وجہ/سبب (First Cause) پر پہنچ جائے کہ جس کے نتیجے میں تمام اسباب (Causes) جنم میں آئے ہیں تو اس کو ارسطو (The unmoved Mover) کہتے ہیں یعنی قدرت کے اندر تمام اسباب و تبدیلیوں کا ایسا سبب (Cause) جس کی نہ کوئی اور سبب ہے اور نہ ہی اس کو کوئی اور سبب ہلا سکتی ہے۔
ارسطو کے مطابق وہ اس پوری کائنات کی فارمل کاز بھی ہیں، ایفشنٹ کاز بھی ہیں اور وہ اس کائنات کا فائنل کاز ِبھی ہے اور اسی اول سبب (First Cause) کو ارسطو خدا (God) کا نام دیتے ہیں۔
ارسطو کا جو یہ خدا کا تصور ہے وہ ایک قسم کی خالص توانائی اور خالص قوت ہے جو اس کائنات کو چلا رہی ہے، اسی نے اس کائنات کو تبدیلی کے عمل میں شروع کیا ہے اور ہر چیز کی آخری منزل تک پہنچنے میں بھی یہی قوت ہے جس کو ارسطو Unmoved Mover کہتے ہیں اور وہ ایک قسم کی قدرتی طاقت ہے جس کی وجہ سے تمام کائنات چل رہی ہیں اور تبدیل ہورہی ہیں۔

– لیکچرر: ڈاکٹر تیمور رحمان
– تحریر و ترتیب: میثم عباس علیزی


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3786606764903162


Comments

2 responses to “– فلسفہ کی تاریخ (History of Philosophy) – قسط: 33 – ارسطو کے چار اسباب اور خدا …”

  1. علیزۓ صاحب یہ جو کہا کہ ( فاینل کاز آجکل کے ساٸینسدان تسلیم نہیں کرتے) اسکی تھوڑی وضاحت اگر ہوسکے تو فاٸیدہ مند ہوگا۔ شکریہ۔

  2. Your philosophy series should comprise "Aristotle’s categories” as well.