( غیــر مطبــوعــہ ) کیا ہُوں اَور کیا نہیں بھید …


( غیــر مطبــوعــہ )

کیا ہُوں اَور کیا نہیں
بھید کُھل رہا نہیں

تُو مِلے تو کچھ کُھلے
مَیں کہیں ہُوں ‘ یا نہیں

ہو رہا ہے جو یہاں
کیا یہ سوچتا نہیں

وہ وہاں مِلا مجھے
مَیں جہاں پہ تھا نہیں

رُو نُما ابھی ہُوا
واقعہ نیا نہیں

پھول کِھل رہے ہیں کیوں
کوئی سوچتا نہیں

مِیـر ؔ کی طرح ہوں خوار
کوئی پوچھتا نہیں

تُو مِرے سِوا بھی ہے
مَیں تِرے سِوا نہیں

چار سَمت منزلیں
کوئی راستہ نہیں

تُو کبھی رضــاؔ سے مِل
آدمی بُرا نہیں

( اختر رضــاؔ ســلیــمـی )