( غیــر مطبــوعــہ ) سماعت کو تو گِروی رکھ دیا ہ…


( غیــر مطبــوعــہ )

سماعت کو تو گِروی رکھ دیا ہے
سُنوں کیسے کہ دِل نے کیا کہا ہے

مِری مُٹّھی میں جگنو تھا تو پھر کون
لکیروں میں سیاہی بھر گیا ہے

میں اپنے قافلے میں چل رہا ہوں
غبارِ دشت کو کیا مسئَلہ ہے؟

کوئی کشتی نہیں حدّ ِنظر تک
مِرے رستے میں دریا آ گیا ہے

مجھے تقسیم کر دے گا کوئی شخص
مِرے اندر یہ ڈر بیٹھا ہوا ہے

جِسے میری ضرورت ہی نہیں تھی
بچھڑ کر مجھ سے پتّھر ہو چکا ہے

سَـحَــر بھی دیر سے ہو گی نمو دار
کہ سورج دیر تک سویا رہا ہے

( ســعیـد راجاؔ )