( غیــر مطبــوعــہ )
روز کمرے میں رہیں,' روز ہی آنگن دیکھیں
اب تو نظــــروں کا تقاضــا ہے نیا پن دیکھیں
اپنے چہرے کی اداسی کو پڑھیں ہم کب تک
تری صـــــورت نظر آجائے تو درپن دیکھیں
مشغــــلہ اس کے سِـــوا اور بچـا ہی کیـا ہے
بے کَس آنکھوں سے برستا ہواساون دیکھیں
اِس قدر بھیڑ غموں کی ہے ہمارے گھر میں
اب گـــــــریبان کو ہم روئیں کہ دامن دیکھیں
لاک ڈاؤن کے سبب.قید ہیں گھرمیں' مسعودؔ !
ہائے کس طرح سے بھوپال کا جوبن دیکھیں
( اقبال مسـعــود ؔ )
— with Iqbal Masood.

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔