( غیر مطبوعہ ) کوئی جو ہنس کے بلائے' نثار ہو…

( غیر مطبوعہ )

کوئی جو ہنس کے بلائے' نثار ہوتے ہیں
ہم ایسے لوگ مَحبّت کی مار ہوتے ہیں

اِسی لیے مَیں اُلَجھتا نہیں ہوں عورت سے
کہ اِس کی ذات میں پردے ہزار ہوتے ہیں

زمینیں خود ہی اُگلتی ہیں سیم و زر اپنا
زمانے خود ہی تمدُّن شعار ہوتے ہیں

پھر اُس کے بعد مجھے نیند چاہیے ہو گی
گِنوں گا زخم جہاں تک شمار ہوتے ہیں

پہنچ تو آئے جنازے پہ کاندھا دینے کو
زمانہ کچھ بھی کہے یار ، یار ہوتے ہیں

اُسی کی حمد سے کُھلتا ہے باب صبحِ مبیں
گُل و گیاہ بھی مدحت گزار ہوتے ہیں

میں اُن کی صَوت سے منظر کشید کرتا ہوں
جو خواب آنکھ کی لُکنت پہ بار ہوتے ہیں

کوئی کوئی ہی اُترتا ہے لفظ کی تہہ میں
کسی کسی پہ یہ راز اشکار ہوتے ہیں

کہا ہے اُس نے یہ آزرؔ! مِری غزل سُن کر
تمھارے شعر بہت طرح دار ہوتے ہیں

( دلاور علی آزرؔ )

— with Dilawar Ali Aazar.