( غیر مطبوعہ )
عین ممکن ہے کہ ممکِن نہ رہے
تجھ سے مِلنا بھی کوئی دِن نہ رہے
کون اب تجھ کو بتائے جا کر
ہم رہے ہیں کہ تِرے بِن نہ رہے
جھیل سُنسان پڑی ہے دل کی
اب وہ پریاں نہ رہِیں ' جِنّ نہ رہے !
ہم کہ اِس حال میں اک عُمر سے ہیں
کوئی اِس حال میں دو دِن نہ رہے
ایک پَل کے لیے بُھولے نہ تجھے
ہم تِری یاد سے خائِن نہ رہے
ہم نے کاغذ پہ بنائِیں صبحیں
ظُلمتِ شب کے معاوِن نہ رہے
اب تو کاغذ سے بھرے ہیں سینے
اُجلے اُجلے سے وہ باطِن نہ رہے
اِمتیازؔ ! اور بھی مجھ سے ہیں کئی
کم سِنی میں بھی جو کم سِن نہ رہے
( امتیــاز الحقّ امتیــاز ؔ )
— with Zia Shahid.

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔