( غیر مطبوعہ )
شفق سے ہے' نہ چشمِ صبح گاہی سے ہے بَن روشن
ہمارے خون کی سُرخی سے ہیں کوہ و دمن روشن
مِری ڈائری کا ہر اک صفحہ تاباں ہو نہیں کیوں کر
کہ تیرا نام لکھنے سے ہے کاغذ کا بدن روشن
مَحبت میں یہی واللّیل بھی ہے ' والضّحیٰ بھی ہے
جٹاؤں میں قلندر کی ہے نادیدہ زمن روشن
تمنّا کی وہ مُبہم لٙو کہ جو لٙو بھی نہیں شاید
اسی ابہام سے رہتا ھے اپنا ہر سُخن روشن
ہمارے شعلئہ لب سے بپا جشنِ چراغاں ہے
لب و رخسار و گردن ، دست و پا، چاہِ ذقن روشن
( ق )
ابھی ترک تعلق کی سیاہی نے نہیں گھیرا
در و دیوارِ فرقت پر ہے آنکھوں کی جلن روشن
سرائے دل میں بھی شامِ غریباں تو نہیں اتری
ابھی گورِ غریباں پر ہیں دُکھ کے یاسمن روشن
ابھی دامانِ حسرت کو سمیٹا ہی نہیں میں نے
ابھی کشکولِ جاں میں ہے وہی رنجِ کہن روشن
( نذیر آزاد ؔ )
— with Nazir Azad.

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔