( غیر مطبوعہ ) حــدّ ِ امکاں تلک تمام مِرا ثبت …

( غیر مطبوعہ )

حــدّ ِ امکاں تلک تمام مِرا
ثبت ہے بحر و بر پہ نام مرا

میں خلیفہ ہوں ساری دنیا کا
ہے فلک سے یہ اہتمام مرا

جانتے ہیں ملائکہ سارے
اُن سے اونچا ہے کیوں مقام مرا

وقت میرا طواف کرتا ہے
لمحے کرتے ہیں احترام مرا

صبح میرا قصیدہ پڑھتی ہے
شب سجاتی ہے لب پہ نام مرا

آنکھ کی ہیں بصارتیں محدود
ہے بصیرت تو جلوہ عام مرا

مجھ کو سورج سلام کرتا ہے
چاند بھی ہے سدا غلام مرا

بستیوں میں مری رہایش ہے
جنگلوں میں بھی ہے قیام مرا

پیاس جب بھی ستانے لگتی ہے
نام لیتے ہیں تشنہ کام مرا

کچھ قلندر بنے ہیں کچھ ابدال
علم و عرفاں کا پی کے جام مرا

نیند میں بھی ہے ایک بیداری
خامشی بھی اک کلام مرا

دیتی آئی ہے عقل بھی دھوکا
اب فقط عشق ہے پیام مرا

شعر اُترے ہیں غیب سے یہ خُمارِؔ !
ورنہ ایسا تھا کب کلام مرا

(سلیمان خُمــار ؔ)

— with Suleman Khumar.