( غیر مطبوعہ ) ایک دن جاگے تو جانا، ختم دنیا ہو گ…

( غیر مطبوعہ )

ایک دن جاگے تو جانا، ختم دنیا ہو گئی
ابر سُنّی ہو گیا اور خاک شیعہ ہو گئی

چرخ پر ابھرے تو ہو گی، بھائی صاحب! صبح ہے
بھیرویں گانے سے ہوتی ہو، تو اچّھا ہو گئی

شل ہوئی سن کر سماعت ایک نقاّرے پہ چوٹ
ایک نظّارے کے آگے آنکھ رسوا ہو گئی

جبر کے ناکے پہ اٹّھا، صبر کے نوحے کا شور
خیر کی صبحِ شرف، شامِ تبرّا ہو گئی

چاہنے والے سِدھارے، پوجنے والے گئے
مورتی گرتے ہوئے ہیکل میں تنہا ہو گئی

یاس دروازے کے آگے رات کی دیوار ہے
آرزو کیوں کر گنوائی، روشنی کیا ہو گئی

گیارہویں دن کی قیامت، اور کچھ شہزادیاں
دیکھنے والوں نے دیکھا، خاک پردہ ہو گئی

( احمـــد جہـــاں گیر )

— with ‎احمد جہاں گیر‎.