( غیر مطبوعہ )
ادراک
کہیں کچھ نہیں ہے
کوئی نقش و پیکر ' کوئی شکل و تیور
نہیں ہے
نہ رخسار و لب ہیں' نہ اُن کی دمک
نہ قامت قیامت ' نہ رُت میں کشش ۔ ۔ ۔
نہیں کچھ نہیں ہے
مگر آنکھ ہے ۔۔۔۔ اور دل ہے
یہیں دید و نادید کی سب سمجھ ہے
خیالوں کی پے چیدگی کچھ نہیں ہے
سخُن کی نزاکت ' سُروں کی نفاست
سماعت کی باریکیاں ہیں
وگرنہ نہیں کچھ
زمیں ' آسماں ' پھول ' بادل ' ستارے
سبھی میرا ادراک ہیں
لفظ کاغذ پہ بے' صَوت و معنی لکیریں ہیں
آواز و مفہوم میں ہوں
وراؑ ماوراؑ میرا حُسنِ تخیُّــــل
وجود و عدم میرا کارِ تصوُّر
مِرے وہم و ادراک سے ہے
جو نقشِ گماں ہے ' جو نقشِ یقیں ہے
وگرنہ کہیں کچھ نہیں ہے
( شـــہزادؔ نیّــــر )
— with Shahzad Nayyar.

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔