” غالبؔ شکن” مرزا یاس یگانہ چنگیزی لذّتِ زندگی مُ…


” غالبؔ شکن” مرزا یاس یگانہ چنگیزی

لذّتِ زندگی مُبارک باد
کل کی کیا فکر؟ ہر چہ بادا باد

اے خوشا زندگی کہ پہلوئے شوق
دوست کے دم قدم سے ہے آباد

دل سلامت ہے، دردِ دل نہ سہی
درد جاتا رہا کہ درد کی یاد؟

زیست کے ہیں یہی مزے واللہ
چار دن شاد، چار دن ناشاد

کون دیتا ہے دادِ ناکامی
خونِ فرہاد برسرِ فرہاد

صبر اتنا نہ کر کہ دشمن پر
تلخ ہو جائے لذّتِ بیداد

صلح کر لو یگانہ غالب سے
وہ بھی استاد، تم بھی اک استاد
……………….
کیوں کسی سے وفا کرے کوئی
دل نہ مانے تو کیا کرے کوئی

نہ دوا چاہیے مجھے نہ دعا
کاش اپنی دوا کرے کوئی

مفلسی میں مزاج شاہانہ
کس مرض کی دوا کرے کوئی

درد ہو تو دوا بھی ممکن ہے
وہم کی کیا دوا کرے کوئی

ہنس بھی لیتا ہوں اوپری دل سے
جی نہ بہلے تو کیا کرے کوئی

موت بھی آ سکی نہ منھ مانگی
اور کیا التجا کرے کوئی

درد دل پھر کہیں نہ کروٹ لے
اب نہ چونکے خدا کرے کوئی

عشق بازی کی انتہا معلوم
شوق سے ابتدا کرے کوئی

کوہ کن اور کیا بنا لیتا
بن کے بگڑے تو کیا کرے کوئی

اپنے دم کی ہے روشنی ساری
دیدۂ دل تو وا کرے کوئی

شمع کیا شمع کا اجالا کیا
دن چڑھے سامنا کرے کوئی

غالب اور میرزا یگانہؔ کا
آج کیا فیصلہ کرے کوئی
…..
یگانہؔ نے غالبؔ شکنی کے باعث بڑی بدنامی مول لی لیکن یہ بدنامی ایسے ہی نہیں تھی بلکہ انہوں نے بہت سی رباعیاں اس سلسلے میں کہی تھیں ۔ ان کی اس رنگ کی بھی چند رباعیاں پیش ہیں تاکہ حقیقت کا اندازا کیا جاسکے ۔

غالبؔ کے سوا کوئی بشر ہے کہ نہیں
اوروں کے بھی حصے میں ہنر ہے کہ نہیں
مردہ بھیڑوں کو پوجتا ہے ناداں
زندہ شیروں کی کچھ خبر ہے کہ نہیں
…….
اللہ ری ہوا وہو میں خلعت و زر مرزا کا
سر ہے اور انگریز کا در ہاں کیوں نہ ہوں

مورکھوں کے دیوتا غالبؔ ہے
باؤلے گاؤں اونٹ بھی پرمیشر