عمر رسیدہ ہو گیا ہوں… لیکن عجیب بات یہ ہے کہ میں ہر صبح یہ سوچتے ہوئے نہیں جاگتا…


عمر رسیدہ ہو گیا ہوں…
لیکن عجیب بات یہ ہے کہ میں ہر صبح یہ سوچتے ہوئے نہیں جاگتا کہ میں بوڑھا ہو گیا ہوں۔
میں بس جاگتا ہوں، اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں اور ایک نئے دن کا آغاز کر دیتا ہوں۔
البتہ کبھی کبھی تنہائی میں جب خود سے یہ سوال کرتا ہوں کہ بڑی عمر کا ہونا آخر کیسا ہوتا ہے؟ تو محسوس ہوتا ہے کہ عمر کا بڑھنا کوئی ایسی حقیقت نہیں جس سے ڈرا جائے، بلکہ یہ تو زندگی کا وہ مرحلہ ہے جس کی قدر اب پہلے سے کہیں زیادہ سمجھ آنے لگی ہے۔
اب میں زندگی میں پہلے جیسی جلد بازی نہیں کرتا۔
ہر شخص سے مقابلہ کرنے اور ہر بات میں خود کو درست ثابت کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔
کبھی ایک دن میں اپنے سارے کام مکمل کر لیتا ہوں، اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کچھ خاص نہیں کر پاتا۔
مگر اب مجھے یہ فکر نہیں ہوتی کہ دنیا رک جائے گی۔
دنیا اپنی رفتار سے چلتی رہتی ہے۔
میں نے ان چیزوں کو ٹھیک کرنے کی کوشش چھوڑ دی ہے جو حقیقت میں میری زندگی کے لیے اہم ہی نہیں۔
میں نے سیکھ لیا ہے کہ بعض اوقات خاموشی، لمبی وضاحت سے کہیں زیادہ مؤثر جواب ہوتی ہے۔
یہ بھی سمجھ آ گیا ہے کہ ہر بحث جیتنا ضروری نہیں، کیونکہ
سکون، ہر حال میں حق بجانب ثابت ہونے سے زیادہ قیمتی ہے۔
اور یہ بھی کہ ضروری نہیں ہر شخص مجھے سمجھے۔
کچھ لوگوں کا نہ سمجھ پانا بھی زندگی کا ایک حصہ ہے، اور اب مجھے اس پر اصرار نہیں۔
ہاں، اس سفر میں بہت کچھ کھویا بھی ہے۔
کچھ لوگ، کچھ رشتے، کچھ خوبصورت لمحے، اور اپنی ذات کے وہ کئی حصے بھی جن کے بغیر کبھی زندگی کا تصور نہیں تھا۔
کبھی کبھی ان سب کی یاد آج بھی دل کو اداس کر دیتی ہے۔
مگر شاید عمر کا ایک خوبصورت پہلو یہ بھی ہے کہ دکھ کے ساتھ جینا آ جاتا ہے۔
اب میرے اندر پہلے سے زیادہ محبت ہے،
زیادہ صبر ہے،
زیادہ نرمی ہے،
اور یہ سمجھ بھی زیادہ واضح ہے کہ زندگی میں اصل اہمیت کس چیز کی ہے اور کس چیز کی نہیں۔
جب سب کچھ ٹھیک نہ ہو تو اب میں یہ دکھاوا نہیں کرتا کہ سب ٹھیک ہے۔
میں وضاحتیں کم دیتا ہوں اور لوگوں کی رائے کے پیچھے بھاگنا بھی چھوڑ دیا ہے۔
اگر کبھی کسی پرانی یاد پر آنکھیں نم ہو جائیں تو خود کو رونے دیتا ہوں۔
اور اگر کوئی بات دل سے ہنسا دے تو کھل کر ہنستا ہوں۔
کیونکہ اب میں جانتا ہوں:
وقت کبھی واپس نہیں آتا،
اور خوشی بھی کسی اجازت کی محتاج نہیں ہوتی۔
اگر آپ مجھ سے دوبارہ پوچھیں:
"بڑی عمر کا ہونا کیسا ہے؟”
تو شاید میرا جواب ہو گا:
یہ آزادی ہے۔
ان چیزوں سے آزادی جنہیں کبھی ہم نے اپنی زندگی سے بھی زیادہ مضبوطی سے تھام رکھا تھا۔
لوگوں کو خوش کرنے کی فکر سے آزادی،
ہر بات کا جواب دینے کی ضرورت سے آزادی،
اپنے آپ کو ہر وقت درست ثابت کرنے کی خواہش سے آزادی۔

اور سب سے بڑھ کر—
بغیر کسی نقاب، بغیر کسی بناوٹ اور بغیر کسی جلد بازی کے، اپنی اصل ذات کے ساتھ جینے کی آزادی۔
مجھے نہیں معلوم کہ میرے پاس کتنا وقت باقی ہے۔
یہ کوئی بھی نہیں جانتا۔
لیکن ایک بات ضرور جانتا ہوں:
میں اپنے باقی ماندہ وقت کو کامل بننے کی کوشش میں ضائع نہیں کروں گا۔
میں بس جینا چاہتا ہوں—
سکون کے ساتھ،
سچائی کے ساتھ،
اپنوں کی محبت کے ساتھ،
اور اللہ کی رضا کو سامنے رکھتے ہوئے۔
اور اگر بڑی عمر ہونے کا مطلب یہی ہے،
تو پھر میں اسے بوجھ نہیں سمجھتا۔
میں اسے زندگی کی طرف سے ملنے والا ایک قیمتی تحفہ سمجھ کر، پورے شکر کے ساتھ قبول کرتا ہوں۔
کیونکہ شاید عمر بڑھنے کا اصل کمال یہ نہیں کہ ہم کتنے سال جئے،
بلکہ یہ ہے کہ ہم نے ان برسوں میں خود کو کتنا سمجھا، کتنا سنوارا اور کتنا سکون پایا۔
اللہ کریم خاتمہ بالایمان فرمائے آمین













Source