عرفان ستار
بے رنگ ترے در سے، کب خاک بسر اٹھے
یا پیرھن_گل میں، یا خون میں تر اٹھے
چل آج پہ روتے ہیں،تھک ہار کے سوتے ہیں
پھر رنج اٹھائیں گے، کل صبح اگر اٹھے


عرفان ستار
بے رنگ ترے در سے، کب خاک بسر اٹھے
یا پیرھن_گل میں، یا خون میں تر اٹھے
چل آج پہ روتے ہیں،تھک ہار کے سوتے ہیں
پھر رنج اٹھائیں گے، کل صبح اگر اٹھے
جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔