**عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)**
**افسانہ نمبر 584 : بے ٹھکانہ**
**افسانہ نگار : جُوزے جے ویگا (برازیل)**
**مترجم : محمد فیصل (کراچی)**
آپ ہمیشہ ہم سے ہمارے اس چھوٹے سے قصبے کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ اس میں کیا خاص بات ہے؟ آخر آج میں کہہ سکتا ہوں کہ اس قصبے میں ایک قابلِ ذکر مشین کا اضافہ ہو چکا ہے۔ مجھے اب تاریخ تو یاد نہیں مگر جب سے یہ مشین ہمارے قصبے میں نصب ہوئی ہے تب سے سب کا موضوعِ سخن یہی مشین ہے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ابھی تک اس مشین پرکسی نے جھگڑا نہیں شروع کیا۔ مشین ایک سہ پہر کو اس وقت قصبے میں پہنچی جب اکثریت کھانا کھا رہی تھی مگر ڈرائیور اورمزدوروں کی آوازیں سن کر اکثر گھرانے باہر نکل آئے۔ مرد حضرات اندازے لگانے لگے کہ یہ مشین کیا ہے؟ کیا کرے گی؟ مشین کو ٹرک سے اتارنے کے بعد اس پر ترپال ڈال دی گئی اور مزدور کھانے کے لیے چلے گئے۔ ہم سب شدید تجسس میں مبتلا تھے اور کچھ تو ان مزدوروں سے بات کرنا چاہ رہے تھے مگر کسی نے پہل نہ کی۔ کھانے کے بعد مزدور دوبارہ آگئے۔ ان کی نظریں ہم پر جمی تھیں اور ہم ان کی نظروں کی تاب نہ لا کر وہاں سے چلے گئے۔
اگلے دن پتا چلا کہ مشین لانے والے اسے جوڑ کر وہاں سے جاچکے ہیں۔ پورے قصبے میں چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں کہ مشین کیا کرے گی؟سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ یہ مشین اس قصبے میں کس نے منگوائی ہے؟ بچے اس دوران بغیر کسی سے پوچھے مشین کی ترپال اتار کر اس پر چڑھ چکے تھے۔ مشین بڑی خوب صورت تھی۔ اس میں مختلف شافٹ، گراریاں، کریڈل اور گئیر بنے ہوئے تھے۔ قصبے کے کچھ برگزیدہ افراد مئیر کے پاس گئے اور مشین کی بابت سوال کیا۔ مئیر نے بھی اس ضمن میں لاعلمی کا اظہار کیا اور بتا یا کہ اس نے تمام دستاویز پڑھ لی ہیں مگر اسے کوئی ریکارڈ نہیں ملا کہ یہ مشین یہاں کیسے آئی اور اس کی قیمت کس نے ادا کی ہے؟تاہم اس نے ایک آدمی کو اس مشین کی چوکیداری پر مامور کر دیا ۔ اس چوکیدار نے اپنی ذمہ داریاں اتنے احسن طریقے سے انجام دیں کہ اس کی گواہی پورا قصبہ دے سکتا ہے۔ دن ہو یارات، وہ ہر وقت اس کے آس پاس رہتا تھا۔ ہفتے میں ایک بار وہ اس کے مختلف حصوں پر گریس ملتا نظر آتا۔ اس کی کوششوں اور دل چسپی سے مشین چمچماتی نظر آتی۔
دھیرے دھیرے ہم اس مشین کے اتنے عادی ہوگئے کہ اگر کسی دن کہیں سے کوئی اس کے کاغذات لے کر اسے لینے آجاتا تو پتا نہیں ہم کیا کرتے؟ اور اس بارے میں میں سوچنا بھی نہیں چاہتا۔ یہ ہمارے قصبے کی پہچان بن چکی تھی، ہمارا فخر تھی، ہماری عظمت کا نشان تھی۔ اس مشین کے یہاں آنے کے بعد دوسرے قصبوں اور نزدیکی شہروں سے وفود آئے۔ وہ پہلے مئیر سے گپ شپ لگاتے پھر مشین سے ارد گرد گھومتے۔ کئیوں نے تو اس کو خریدنے میں بھی دل چسپی ظاہر کی اور مئیر سے اس کا مول بھی دریافت کیا۔ خوش قسمتی سے مئیر ان کی باتوں میں نہ آیا اور انھیں منہ کی کھانا پڑی۔
جلد ہی یہ مشین ہماری تقریبات اور تہواروں کا مرکزبن گئی۔ ہم اکثر تقاریب اس کے آس پاس مناتے۔ یہاں تک کہ سیاسی جلسوں میں بھی سٹیج مشین کے ساتھ بنایا جاتا۔ اچھی بات یہ تھی کہ ان تقاریب اور جلسوں کے باوجود مشین بالکل نئی جیسی تھی اور سب اس بات کا خصوصی خیال رکھتے تھے۔ اب تک اس مشین کی وجہ سے صرف ایک معمولی حادثہ ہوا ہے۔ وہ بھی ایک لڑکے کی اپنی غلطی کی وجہ سے۔ ایک دن قریبی قصبے سے ایک لڑکا کسی کے ہاں کھاد کی کچھ بوریاں دینے آیا۔ رات ہو چلی تھی ، وہ گھر جانے کی بجائے اس مشین پر ہی سو گیا۔ کم بخت نشے میں تھا اور نہ جانے کیسے اس مشین کے اوپری پلیٹ فارم پر جالیٹا۔ سوتے میں کروٹ لی اور سیدھا مشین کے نچلے حصے میں نصب ایک سٹیرنگ پر گرا۔ اس کے وزن سے سٹیرنگ گھوما اور مشین خود بخود چل پڑی۔ اس کا پیر گراریوں میں پھنسا اور پورا قصبہ اس کی چیخوں کی آواز سن کر دوڑا۔ کچھ صاحب فہم افراد نے لوہے کے ڈنڈے گراریوں میں پھنسائے اور اس لڑکے کو باہر نکالا۔ لڑکے کا پیر کٹ گیا مگر خوش قسمتی سے مشین کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ اب وہ لڑکا وہیں مشین کے نچلے حصوں کی صفائی پر تعینات کردیا گیا ہے۔ ہمارے قصبے میں ایک قرارداد پیش کی جارہی ہے کہ اس مشین کو یادگار کا درجہ دے دیا جائے مگر ابھی صرف ہم نے آپس میں بات کی ہے ، مئیر سے اس معاملے پر بات نہیں ہوئی۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس مشین میں معجزاتی کرامات ہیںمگر میں ان باتوں کو ضعیف الاعتقادی سمجھتا ہوں۔ میں اور قصبے کے اکثر لوگ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ یہ مشین صرف ایک مشین ہے جس کی وجہ سے ہمارے قصبے میں زندگی کی ایک نئی لہر دوڑ گئی ہے ۔
کبھی کبھی میرے ذہن میں بس ایک ہلکا سا واہمہ جنم لیتا ہے کہ کسی دن کہیں سے کوئی اس قصبے میں آن وارد ہوگا جو اپنی علمیت جھاڑنے کے لیے ز مشین کا مکمل معائنہ کرے گا، اچھی طرح اس کے تمام پرزوں کا جائزہ لے گا اور ہمیں اس مشین کا اصل مقصد بتائے گا۔ ہمیں یہ جتانے کے لیے کہ وہ کتنا قابل اور ذہین ہے( جووہ اکثر ہوتے ہیں) کچھ اواز لائے گا اور ہمارے احتجاج کے باوجود وہ اس کے نیچے جائے گا، کسی پرزے کے بولٹ گھمائے گا، کسی پرزے پر گریس لگائے گا اور یہ مشین چل پڑے گی۔ اگر ایسا ہوگیا تو جادو ٹوٹ جائے گا اور یہ مشین غائب ہو جائے گی۔
(انگریزی سے اردو ترجمہ)
انگریزی میں عنوان : **THE MISPLACED MACHINE**
مصنف کا تعارف:
**Jose J Veiga**
1915-1999
جُوزے جے ویگا جنھیں جے جے ویگا کے قلمی نام سے شہرت ملی، برازیلی ادبی منظر نامے میں اونچا مقام رکھتے ہیں۔ اگرچہ وہ اس بات کو تسلیم نہیں کرتے مگر برازیل میں طلسماتی حقیقت نگاری کی اصطلاح پر ان کی تحاریر پورا اترتی ہیں۔ ان کی اکثر تخلیقات زندگی کی ان بھیانک اور کریہہ حقیقتوں سے پردہ اٹھاتی ہیںجن کی طرف دیکھنے کا یارا کسی کسی میں ہوتا ہے۔ ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ 1959میں شائع ہوا جب کہ آخری کتاب 1997میں شائع ہوئی۔ ان کی شان دار ادبی خدمات پر انھیں برازیلی اکادمی ادبیات کی طرف سے ادب کا سب سے بڑ ا اعزازمشادو ایوارڈ تفویض ہوا۔ مجموعی طور پر ان کی سولہ کتب شائع ہوئیں جن میں سے دو کتب انگریزی زبان میں ترجمہ بھی ہوئیں۔
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3869655359931635

Comments
One response to “**عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)** **افسانہ نمبر 584 : بے ٹھکانہ** **…”
ویسے یہ مشین کی ہوسکتی ہے؟