ضبط کی حد سے بھی جس وقت گزر جاتا ہے
درد ہونٹوں پہ ہنسی بن کے بکھر جاتا ہے
رنگ بھر جاتا ہے پھر عشق کے افسانے میں
اشک بن بن کے اگر خونِ جگر جاتا ہے
آج تک عالمِ وحشت میں پئے جاتے ہیں
کتنی مدت میں گھٹاؤں کا اثر جاتا ہے
جام پی لیتے ہیں سب، دیکھنا ہے ظرف مگر
کون کس وقت اٹھا، اور کدھر جاتا ہے
… More
جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔