صراحی کا بھرم کُھلتا نہ میری تشنگی ہوتی
ذرا تُم نے نگاہِ ناز کو تکلیف دی ہوتی
جہاں بدلا مگر آدابِ مے خانہ نہیں بدلے
کبھی اے گردشِ دوراں اِدھر بھی آ گئی ہوتی
رہِ ہستی کے ہر منظر پہ رُکتی ہے نظر اپنی
وہ مل جاتے تو کیا دُنیا میں ایسی دلکشی ہوتی
مقامِ …

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔