صحافی، مصنف، مفکر اور سماجی نقاد کے ساتھ ساتھ ماہر لسانیات، اصلاح پسند، سفیر، مترجم اور محقق علامہ محمد اسد کو بیسویں صدی میں یورپ کے نہایت متاثرکن مسلمانوں میں شمار کیا جاتا ہے-
علامہ محمد اسد آسٹریا- ہنگری کے ایک یہودی ربی کے گھرانے میں پیدا ہوئے- ان کا نام Leopold Weiss رکھا گیا- بہت چھوٹی عمر میں ہی عبرانی سیکھ لی اور آرامی زبان سے واقفیت پیدا کی-
فلسطین میں ایک یہودی وطن کے تصور کی تنقیدی انداز میں جانچ پڑتال کی اور اسے نہایت غیر منطقی اور ظالمانہ پایا- انھیں عرب دنیا کو گہرائی میں دیکھنے کا موقع ملا اور عرب انداز حیات اور روایات کے علاوہ مذہب اسلام کے کچھ اصولوں نے ان کو اپنی جانب متوجہ کیا اور پھر برلن کی ایک مسجد کے امام کے ہاتھ پر 1926 میں اسلام قبول کر لیا-
مصر، سعودی عرب، ایران، افغانستان اور جنوبی سویت جمہوریاؤں میں ان کے اسفار کو نوآبادیاتی طاقتوں نے کافی شک کی نگاہ سے دیکھا- 1929 میں شاہ سعود نے انھیں ایک خفیہ مشن پر کویت بھی بھیجا-
1932 میں علامہ اسد برطانوی ہندوستان آ گئے اور ان کی ملاقات علامہ اقبال سے بھی ہوئی- مذہبی بنیادوں پر یہودی ریاست کے تصور کا مخالف ہونے کے باوجود محمد اسد نے ہندوستان میں ایک اسلامی ریاست کے خواب کو پسند کیا- پاکستان بننے پر انھیں پاکستانی شہریت دے دی گئی اور محمکہ اسلامی تعمیر نو کا ڈائریکٹر تعینات کر دیا گیا-
1949 میں علامہ اسد پاکستان کی خارجہ امور کی وزارت میں مڈل ایسٹ ڈیویژن کے سربراہ تعینات ہوئے- آخری ایام میں سپین منتقل ہوئے اورفروری 1992 کو وفات پائی-
محمد اسد کی تحریروں اور خیالات کو سمجھنے کے لیے 20ء تا 40ء کی دہائی کے یورپ میں عقلی و سیاسی رجحانات کو مدنظر رکھنا چاہیے مثلاً فرائیڈین ازم، سامیت دشمنی، صیہونیت، نئی اور دور دراز سرزمینوں کو دیکھنے کا جنون اور عقلیت کی مخالفت- اس سے ہمیں پتہ چلے گا کہ علامہ اسد نے مغرب کے ثقافتی و اخلاقی انحطاط پر اس قدر کٹیلی تنقید کیوں کی- بالکل نٹشے اور سپنگلر کی طرح!
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2944485859115261

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔