شیخ عبداللطیف تپش کا یومِ وفات
October 29, 1895
…..
موت آتی نہیں قرینے کی
یہ سزا مل رہی ہے جینے کی
مے سے پرہیز شیخ توبہ کرو
اک یہی چیز تو ہے پینے کی
تم کو کہتا ہے آئنہ خود میں
باتیں سنتے ہو اس کمینے کی
ہو گیا جب سے بے نقاب کوئی
شمع روشن نہ پھر کسی نے کی
چشم تر آبرو تو پیدا کر
یوں نہیں بجھتی آگ سینے کی
اہل دنیا سے کیا بدی کا گلا
اے تپشؔ تو نے کس سے کی نیکی
…..
جان آنکھوں میں رہی جی سے گزرنے نہ دیا
اچھی دیدار کی حسرت تھی کہ مرنے نہ دیا
کیا قیامت ہے ستم گار بھری محفل میں
دل چرا کر تری دزدیدہ نظر نے نہ دیا
مدتوں کش مکش یاس و تمنا میں رہے
غم نے جینے نہ دیا شوق نے مرنے نہ دیا
ناخدا نے مجھے دلدل میں پھنسائے رکھا
ڈوب مرنے نہ دیا پار اترنے نہ دیا
کوئی تو بات ہے جو غیر کے آگے اس نے
شکوہ کیسا کہ مجھے شکر بھی کرنے نہ دیا
خاک آرام کی خواہش ہو وطن سے باہر
جب ہمیں چین تپشؔ اپنے ہی گھر نے نہ دیا
……………………
