شمیم جے پوری
باخدا اب تو مجھے کوئ تمنا ہی نہیں
پھر یہ کیا بات ہے یہ دل کہیں لگتا ہی نہیں
صرف چہرہ کی اداسی سے بھر اۓ آنسو
دل کا عالم تو ابھیی آپ نے دیکھا ہی نہیں
وہ کرم کرتےہیں یا ہم پہ ستم کرتے ہیں
اس نظر سے انہیں ہم نے کبھی دیکھا ہی نہیں
دوست کو دوست سمجھنا تو ہے اک بات شمیمؔ
ہمم نے دشمن کو دشمن کبھی سمجھا ہی نہیں

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔