شبِ تاریک میں انوار کی دستک ، ذکرك ہے مرا دیں، م…

شبِ تاریک میں انوار کی دستک ، ذکرك
ہے مرا دیں، مرا ایماں ، مرا مسلک، ذکرك

جیسے تپتے ہوئے صحرا پہ پہ پڑی ہو شبنم
یوں مرے دل میں اترتی ہوئی ٹھنڈک ، ذکرك

ایک تکرار مرے دل میں رواں رہتی ہے
ورفعنا لك ذکرك، لك

ذکرك، ذکرك

کہیں یسیں، کہیں طٰہٰ سے حسیں نقش و نگار
اوڑھ کر آیا ہے قرآن میں اجرک، ذکرك

سینہ ءِ مصحف ِ قرآن پہ تمغے ، آہا
گہے عمرك، گہے وجہك ، گہے صدرك، ذکرك

دل کے اک طاق سے چھنتی ہوئی پر نور ضیا
دل کے اس طاق پہ رکھا ہوا دیپک، ذکرك

سرحد ِ شہر ِ ابد تک ہو رسائی ، آقا
میں کروں وقت کی اس آخری حد تک، ذکرك

(ابوالحسن خاور)

انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی