شاھین کاظمی کے قلم سے؛
التجا۔۔
وقت رخصت
سوچ کے آنگن میں گلابوں کو کھلا رہنے دینا
روح کے بام و در میں ایک چراغ سہی
پر جلا رہنے دینا
کہ تو نہیں تو تیرے ہونے کا گمان ٹھہرے
اتنی طویل رفاقتوں کے بعد
کوئی تعلق تو تیرے میرے درمیان ٹھہرے!

شاھین کاظمی کے قلم سے؛
التجا۔۔
وقت رخصت
سوچ کے آنگن میں گلابوں کو کھلا رہنے دینا
روح کے بام و در میں ایک چراغ سہی
پر جلا رہنے دینا
کہ تو نہیں تو تیرے ہونے کا گمان ٹھہرے
اتنی طویل رفاقتوں کے بعد
کوئی تعلق تو تیرے میرے درمیان ٹھہرے!