سوچتا ہوں واپس آ کر کوئی چھوٹا موٹا کام کر لوں۔ ا…


💥 سوچتا ہوں واپس آ کر کوئی چھوٹا موٹا کام کر لوں۔ اب بچوں کے ساتھ رہنے کو دل چاہتا ہے۔‘‘ 🥹💔

اسلم نے ستائیس برس بعد وطن واپسی کا ٹکٹ خریدا تو اسے معلوم نہیں تھا کہ جن لوگوں کے لیے اس نے اپنی پوری جوانی پردیس کی نذر کر دی تھی، ان کے حصے کی زندگی کب کی ختم ہو چکی تھی۔

اس نے ٹکٹ جیب میں رکھا اور پرانی ڈائری کھولی۔ اس میں ایک زرد پڑا خط رکھا تھا۔ خط پر باپ کی لکھائی تھی، مگر اس نے اسے کبھی نہیں پڑھا تھا۔

اس کے ہاتھ میں کاغذ کانپنے لگا۔

اسے اپنا پہلا دن یاد آ گیا۔

چھبیس سال کی عمر میں جب وہ دبئی آیا تھا تو اس کے خواب بہت سادہ تھے۔ باپ کا کچا مکان پکا کرنا تھا، چھوٹی بہن نادیہ کی شادی کرنی تھی اور بیوی سمیرا اور شیرخوار بیٹے حمزہ کے لیے بہتر زندگی بنانی تھی۔

ائیرپورٹ پر ماں نے رخصت کرتے ہوئے کہا تھا:

’’بیٹا، پیسے کم بھیجنا، مگر اپنا خیال رکھنا۔‘‘

اسلم ہنس دیا تھا۔

’’امی! بس دو سال کی بات ہے۔ قرض اتر جائے تو واپس آ جاؤں گا۔‘‘

مگر دو سال کب پانچ، اور پانچ کب دس ہو گئے، اسے خود بھی خبر نہ ہوئی۔

پانچواں سال

اسلم نے گھر خط لکھا۔

پیارے ابو جان اور امی جان!

قرض ادا ہو چکا ہے۔ اب میرا دل چاہتا ہے کہ واپس آ جاؤں۔ صحت بھی اچھی ہے، کوئی مناسب ملازمت کر لوں گا۔ حمزہ بھی اب بڑا ہو رہا ہے، اسے باپ کی ضرورت ہے۔

آپ کی کیا رائے ہے؟

آپ کا بیٹا، اسلم

جواب آیا تو باپ نے لکھا:

’’بیٹا، گھر کی حالت بہت خراب ہے۔ برسات میں چھت ٹپکتی ہے۔ سوچ رہے ہیں کہ پکا مکان بنا لیا جائے۔ تم واپس آ گئے تو یہ خواب شاید کبھی پورا نہ ہو سکے۔ باقی تمہاری مرضی۔‘‘

اسلم نے خط تہہ کیا اور اگلے دن اوور ٹائم کی درخواست دے دی۔

دسواں سال

مکان کی چھت پڑ چکی تھی۔ نادیہ کی شادی بھی سر پر تھی۔ اسلم نے دوبارہ لکھا:

’’اب گھر بن گیا ہے، قرض بھی اتر گیا ہے۔ طبیعت اکثر تھکی رہتی ہے۔ سوچتا ہوں واپس آ کر کوئی چھوٹا موٹا کام کر لوں۔ اب بچوں کے ساتھ رہنے کو دل چاہتا ہے۔‘‘

اس بار جواب ماں نے لکھا تھا۔

’’میرے بچے! دل تو ہمارا بھی کرتا ہے کہ تم واپس آ جاؤ، مگر نادیہ کی شادی کے اخراجات ہیں۔ تم جانتے ہو، ہم نے ساری زندگی اس کے لیے بھی کچھ خواب دیکھے ہیں۔ اللہ تمہیں اجر دے۔‘‘

اسلم نے اپنی جمع پونجی کا بڑا حصہ بہن کی شادی کے لیے بھیج دیا۔

اسے نادیہ کا بچپن یاد تھا۔ وہ عید پر اس کی جیب سے ٹافیاں نکال لیا کرتی تھی۔

چودھواں سال

اب اسلم کو شوگر اور بلڈ پریشر بھی ہو چکا تھا۔ کمر میں درد رہتا اور کام کے بعد کئی گھنٹے تک سیدھا کھڑا ہونا مشکل ہو جاتا۔

اس نے خط لکھا:

’’اب مزید پردیس میں نہیں رہا جاتا۔ نادیہ کی شادی ہو گئی، آپ دونوں کو حج بھی کروا دیا، گھر بھی مکمل ہے اور قرض بھی کوئی نہیں۔ اب میں واپس آنا چاہتا ہوں۔ کوئی ہلکا پھلکا کام کر لوں گا۔‘‘

والدین کا جواب آیا تو ساتھ سمیرا کا خط بھی تھا۔

’’اسلم! میں جانتی ہوں آپ تھک چکے ہیں، مگر بچوں کا مستقبل بھی تو دیکھنا ہے۔ آپ کے بھائی جلال کی شادی کے بعد امی ابو کا زیادہ وقت اسی کے گھر گزرتا ہے۔ سنا ہے آبائی مکان بھی اسی کے نام کرنے کا ارادہ ہے۔ میں نہیں چاہتی کہ کل کو ہمارے بچوں کو کسی کے سامنے جواب دینا پڑے۔ پہلے اپنا الگ گھر بنا لیتے ہیں۔‘‘

اسلم نے خط پڑھا اور دیر تک خاموش بیٹھا رہا۔

پھر اس نے اوور ٹائم کا فارم بھر دیا۔

انیسواں سال

اب اسلم کا اپنا دو منزلہ مکان بھی بن چکا تھا۔ حمزہ کالج میں تھا اور چھوٹا بیٹا اسکول میں۔

اسلم نے سمیرا کو لکھا:

’’اب گھر بھی بن گیا ہے۔ قرض بھی ختم ہو گیا۔ کمپنی سے ریٹائرمنٹ فنڈ ملتے ہی واپس آ جاؤں گا۔ بال سفید ہو گئے ہیں، طبیعت بھی ٹھیک نہیں رہتی۔ اب باقی زندگی تمہارے اور بچوں کے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں۔‘‘

سمیرا کا جواب آیا:

’’آپ کے آنے کی خبر سن کر بہت خوشی ہوئی۔ بس حمزہ یونیورسٹی آف لاہور میں داخلہ لینا چاہتا ہے۔ سیلف فنانس کی فیس پہلے سال چار لاکھ اور باقی سالوں میں تین تین لاکھ ہے۔ پہلی قسط اس ماہ جمع کروانی ہے۔ میں نے بہت سمجھایا، مگر وہ اپنے مستقبل کے لیے اسی یونیورسٹی کو بہتر سمجھتا ہے۔ آپ تو اس کے باپ ہیں۔ اسے مایوس نہیں کریں گے۔‘‘

اسلم نے ریٹائرمنٹ فنڈ کا حساب لگایا۔

پھر پوری رقم بیٹے کی تعلیم کے لیے بھیج دی۔

اور کمپنی میں مزید کام کرنے کی درخواست دے دی۔

ستائیسواں سال۔

اسلم کی عمر اب ترپن برس تھی۔ شوگر، بلڈ پریشر، گردوں کی تکلیف اور کمر کے درد نے اسے وقت سے پہلے بوڑھا کر دیا تھا۔

ماں باپ دنیا سے جا چکے تھے۔ نادیہ اپنے گھر میں آباد تھی۔ حمزہ نے تعلیم مکمل کر لی تھی اور چھوٹا بیٹا بھی ملازمت کرنے لگا تھا۔

اسلم نے آخرکار ملازمت چھوڑ دی۔

ائیرپورٹ پر بیٹھے ہوئے اس نے اپنا پرانا سوٹ کیس کھولا تو وہی زرد خط نکل آیا۔

باپ کی لکھائی تھی۔

میرے پیارے بیٹے اسلم!

تمہاری امی کی طبیعت کچھ دنوں سے خراب ہے۔ کل رات دیر تک تمہارا ذکر کرتی رہی۔ کہنے لگی کہ اسلم کو واپس بلا لو، بہت تھک گیا ہو گا۔

میں نے اسے سمجھایا کہ ابھی گھر بنانا ہے، بچوں کا مستقبل سنوارنا ہے۔

اس پر وہ خاموش ہو گئی۔ پھر کہنے لگی:

’’گھر تو بن جائے گا، لیکن ہمارا بیٹا کب واپس آئے گا؟‘‘

بیٹا، اب تمہارے گھر آنے کا انتظار رہتا ہے۔ تمہاری ماں آج بھی صحن میں بیٹھ کر دروازے کی طرف دیکھتی ہے۔ تمہارا بچپن والا نیلا کپ بھی سنبھال رکھا ہے۔ کہتی ہے، اسلم آئے گا تو اسے دکھاؤں گی۔

اب مکان کی فکر چھوڑ دو۔

ہمیں پکا گھر نہیں چاہیے۔

ہمیں ہمارا بیٹا چاہیے۔

تمہارا باپ

اسلم نے خط دوبارہ پڑھا۔ پھر موبائل نکال کر سمیرا کو فون کیا۔

’’سمیرا، ابو کیسے ہیں؟‘‘

دوسری طرف خاموشی چھا گئی۔

’’اسلم، ابو کو فوت ہوئے چار سال ہو گئے ہیں۔‘‘

اس نے لرزتی آواز میں پوچھا:

’’اور امی؟‘‘

’’وہ بھی اگلے سال چلی گئی تھیں۔ آخری وقت تک آپ کا انتظار کرتی رہیں۔‘‘

اسلم کے ہاتھ سے خط گود میں گر گیا۔

’’تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں؟‘‘

سمیرا کی آواز بھرّا گئی۔

’’بتایا تو تھا، اسلم۔ آپ نے کہا تھا کہ اگلی چھٹی پر آ کر سب دیکھ لیں گے۔‘‘

اسلم نے فون بند کر دیا۔

ائیرپورٹ پر پروازوں کے اعلانات ہو رہے تھے، لوگ اپنے عزیزوں سے مل رہے تھے اور وہ ایک ایسے خط کا جواب ڈھونڈ رہا تھا جسے پڑھنے میں اسے پندرہ برس لگ گئے تھے۔

پاکستان پہنچا تو حمزہ اسے لینے آیا تھا۔ چوبیس سالہ بیٹے نے باپ کا سوٹ کیس پکڑا۔

’’ابو، سفر ٹھیک رہا؟‘‘

اسلم نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھا۔

’’تم تو بہت بڑے ہو گئے ہو، بیٹا۔‘‘

حمزہ مسکرا دیا۔

’’آپ بھی تو بہت بوڑھے ہو گئے ہیں، ابو۔‘‘

اسلم بھی مسکرا دیا، مگر اس کی آنکھیں بھیگ گئیں۔

گھر پہنچ کر اس نے سب سے پہلے والدین کی قبروں پر جانے کی خواہش ظاہر کی۔

قبرستان میں دونوں قبریں ساتھ ساتھ تھیں۔ اسلم ان کے درمیان بیٹھ گیا۔ اس نے جیب سے رومال نکالا، باپ کی قبر سے مٹی صاف کی اور ماں کی قبر پر ہاتھ رکھ دیا۔

’’امی، میں آ گیا ہوں۔‘‘

اس کی آواز حلق میں کہیں اٹک گئی۔

کافی دیر بعد اس نے جیب سے وہ خط نکالا اور دونوں قبروں کے درمیان رکھ دیا۔

پھر دھیرے سے بولا:

’’ابو، آپ کا خط مل گیا تھا۔ بس… آنے میں دیر ہو گئی۔‘‘

رات کو گھر واپس آ کر اس نے اپنا سوٹ کیس کھولا۔ اس میں سے ایک چھوٹا سا نیلا کپ نکلا جو ماں نے اس کے بچپن میں سنبھال کر رکھا تھا۔ اس نے اسے اپنے بستر کے قریب میز پر رکھ دیا۔

سمیرا نے پوچھا:

’’یہ کپ کہاں سے ملا؟‘‘

اسلم نے کپ پر ہاتھ پھیرا۔

’’امی نے سنبھال کر رکھا تھا۔ شاید وہ چاہتی تھیں کہ میں واپس آؤں تو اسے دیکھوں۔‘‘

سمیرا خاموش ہو گئی۔

اسلم نے کپ اٹھایا، اس میں پانی ڈالا اور دوا نگل لی۔

پھر کھڑکی سے باہر اپنے روشن، آباد گھر کو دیکھنے لگا۔

اس نے زندگی بھر اپنوں کے لیے گھر بنایا تھا، مگر گھر پہنچنے میں اتنی دیر کر دی کہ اب وہاں اس کا انتظار کرنے والا کوئی نہیں تھا۔

اسے آج سمجھ آیا کہ پردیس میں انسان صرف اپنا وطن نہیں چھوڑتا؛ کبھی کبھی وہ اپنے پیاروں کے ساتھ جینے کا وقت بھی وہیں چھوڑ آتا ہے، جہاں سے واپسی کا راستہ کبھی بند نہیں ہوتا۔