سنو جاناں…
جولائی آگیا ہے
گهٹن اوڑهے ہوئے دن ہیں
کہ جن میں دهوپ نیزے کی انی بن کر بدن کو چیرے جاتی ہے
ہوا کے لمس سے نا آشنا شامیں
ستاروں سے بهری راتیں
کہ جن میں نیند کی دیوی بهی اکتائی سی لگتی ہے
اسی بے کیف منظر میں
اچانک آسماں بادل کی چادر اوڑھ لیتا ہے
وہ چهاجوں مینہ برستا ہے
کہ منظر جهوم اٹهتا ہے
سنو جاناں…
وہی موسم، وہی رت ہے
کہ جب ایسے گهٹن اوڑهے ہوئے دن کی برستی شام میں ہم تم
فضا کی گنگناہٹ روح میں محسوس کرتے تهے
کبهی بوندیں پکڑتے تهے
کبهی یوں مسکراتے تهے
کہ جیسے کان میں بارش نے کوئی بات کہہ دی ہو
سنو جاناں…
وہی موسم، وہی رت ہے
گهٹن اوڑهے ہوئے دن ہیں
فضا بهی گنگناتی ہے
نجانے تم کہاں پر ہو
چلے بهی آؤ اب جاناں..
تمہیں بارش بلاتی ہے…!!
عاطف سعید

سنو جاناں… جولائی آگیا ہے گهٹن اوڑهے ہوئے دن ہیں…
Comments
2 responses to “سنو جاناں… جولائی آگیا ہے گهٹن اوڑهے ہوئے دن ہیں…”
-
Wah
-
alfazz hy ka mooti
جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔